خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 636 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 636

خطابات شوری جلد سوم ۶۳۶ درت ۱۹۵۶ء کی طرف توجہ دلائیں۔لڑکوں سے مل کر اُنہیں نصیحت کریں اور سمجھا ئیں کہ دین کی خدمت کرنا اچھا ہے۔اگر علماء اس طرف توجہ کریں تو طلباء کو جامعہ احمدیہ کی طرف متوجہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔داخلہ کے متعلق جو خیالات ظاہر کئے گئے ہیں اُن کے متعلق ابھی کچھ بیان کرنا تصیح اوقات ہے، ان پر بھی کمیٹی خود غور کرے گی۔بیرونی مبلغوں سے بھی رائے طلب کی جائے کہ کتنے مبلغوں کی ضرورت ہے اور اس کے مقابلہ میں کس قدر داخلہ ہوسکتا ہے۔مجھے شکایت ہے کہ سرحد کے احمدی نوجوانوں میں سے بہت کم نو جوان زندگی وقف کر کے آئے ہیں۔صرف ایک سرحدی نوجوان نے بی۔اے پاس کر کے اپنی زندگی وقف کی ہے۔اس کے رشتہ دار کامیاب وکیل ہیں۔اس نے کہا کہ آپ مجھے وکالت پاس کرنے کی اجازت دیں ، میں وکالت پاس کر کے وقف میں آجاؤں گا اور سلسلہ کے لئے زیادہ مفید وجود ثابت ہوں گا۔میں نے کہا یہ سب دھوکا ہے تم دینی کام کرو اور اس بات کا خیال جانے دو کہ تم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سلسلہ کے لئے مفید وجود ثابت ہو گے۔چنانچہ اس نے شرح صدر سے میرا مشورہ قبول کیا اور جامعتہ المبشرین میں داخل ہو گیا اور اگلے سال وہ شاہد ہو جائے گا۔پس سمجھانے سے سب کچھ ہو جاتا ہے اب جماعت لاکھوں کی ہے۔اگر جماعت کے دس فیصدی لوگ بھی ہماری بات نہ مانیں تو گھبرانے کی وجہ نہیں ، سمجھنے والے موجود ہیں اس لئے علماء کو چاہئے کہ وہ والدین اور اُن سے زیادہ بچوں کو سمجھائیں اور دینی تعلیم کی طرف انہیں توجہ دلائیں۔بچے دلیر ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ ماں باپ کے روکنے کے باوجود وقف کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔مجھے کئی ایک بچوں کے خطوط آتے ہیں کہ وہ دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے والدین منع کرتے ہیں، کیا ہم والدین کی نافرمانی کر کے وقف کر سکتے ہیں؟ میں انہیں یہی لکھتا ہوں کہ کیا فوج میں بھرتی کے لئے ماں باپ سے اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔بے شک باپ منع کرتا ہے تو کرے تم وقف کر کے سلسلہ کی خدمت کے لئے حاضر ہو جاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو۔آپ کے والد نے آپ کو سیالکوٹ میں ملازم کرا دیا لیکن آپ جلد ہی ملازمت چھوڑ کر آگئے اور ہم آپ کے ملازمت چھوڑ کر آ جانے کو نیکی سمجھتے ہیں اور