خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 620
خطابات شوری جلد سوم ۶۲۰ رت ۱۹۵۶ء تو کل کرو اور محنت کرو پھر دیکھو تمہاری ان زمینوں سے خدا تعالیٰ تمہیں اتنا دے گا جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا۔دعاؤں کی برکت ناصر آباد میں میری زمینوں پر ایک دوست منشی قدرت اللہ صاحب سنوری مینیجر تھے۔ایک دفعہ ہم زمین دیکھنے گئے۔چونکہ سندھ میں صدر انجمن احمدیہ کی زمین تھی اس لئے میرے ساتھ چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے اور مرزا بشیر احمد صاحب بھی تھے۔وہاں اُن دنوں گھوڑے کم ملتے تھے۔انہوں نے میرے لئے تو گھوڑا کسی سے مانگ لیا تھا اور دوسرے ساتھی میرے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔منشی قدرت اللہ صاحب نے باتوں باتوں میں بتایا کہ انہیں اس قدر آمد کی اُمید ہے۔اس پر چوہدری صاحب اور مرزا بشیر احمد صاحب نے اس خیال سے کہ منشی قدرت اللہ صاحب کو ان کی باتوں کا علم ہو کر تکلیف نہ ہو آپس میں انگریزی میں باتیں کرنی شروع کر دیں اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ شخص گپ ہانک رہا ہے، اتنی فصل کبھی نہیں ہو سکتی۔ان کا خیال تھا کہ منشی قدرت اللہ صاحب سنوری انگریزی نہیں جانتے مگر دراصل وہ اتنی انگریزی جانتے تھے کہ ان کی باتوں کو خوب سمجھ سکیں مگر وہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتے رہے۔جب اُنہوں نے باتیں ختم کر لیں تو منشی صاحب کہنے لگے آپ لوگ خواہ کچھ خیال کریں، دیکھ لینا میری فصل اس سے بھی زیادہ نکلے گی جو میں نے بتائی ہے۔آپ کو کیا علم ہے؟ میں نے ہر کھیت کے کونوں پر سجدے کئے ہوئے ہیں اور یہ فصل میری محنت کے نتیجہ میں نہیں بلکہ میرے سجدوں کی وجہ سے ہوگی۔میں نے ہر کو نہ پر دو دو رکعت نماز پڑھی ہے اور چار چار سجدے کئے ہیں۔اس پر ان دونوں کا رنگ فق ہو گیا کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پتہ نہیں لگ سکتا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔صدرانجمن احمدیہ کو اس سال گھاٹا رہا لیکن منشی قدرت اللہ صاحب نے کئی ہزار روپیہ مجھے بھجوایا۔میں نے سمجھا کہ یہ صدرانجمن احمدیہ کا روپیہ ہے جو غلطی سے میرے نام آ گیا ہے لیکن دیکھا تو معلوم ہوا یہ میرا ہی روپیہ ہے۔ساتھ ہی منشی قدرت اللہ صاحب نے لکھا کہ میرا اندازہ ہے کہ اتنی ہی آمد اور ہو جائے گی۔میں نے جو پیداوار ابھی تک اُٹھائی ہے وہ میں نے ایک ہندو تاجر کے پاس بھیجی ہے۔آٹھ ہزار روپیہ میں بطور پیشگی لے کر بھیج رہا ہوں اور میں ابھی اور روپیہ ارسال کروں گا حالانکہ