خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 621
خطابات شوری جلد سوم ۶۲۱ رت ۱۹۵۶ء میری زمین صدر انجمن احمدیہ کی نسبت بہت تھوڑی تھی لیکن اُس سال صدر انجمن احمدیہ کو تو گھاٹا رہا لیکن مجھے نفع آیا۔یہ حض منشی قدرت اللہ صاحب سنوری کے سجدوں کی برکت تھی۔پس اگر احمدی زمیندار یہ دونوں کام کریں یعنی محنت بھی کریں اور سجدے بھی کریں اور خدا سے دُعا کریں کہ وہ ان کے دلوں کے زنگ کو دور کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم یورپ کی طرح اپنی پیداوار نہ بڑھا سکیں۔جو ہاتھ پاؤں خدا تعالیٰ نے یورپ والوں کو دیئے ہیں وہی ہاتھ پاؤں اُس نے پاکستانیوں کو دیئے ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں ہم لوگ یورپین لوگوں سے زیادہ محنت کر سکتے ہیں لیکن ہمیں بُری عادتیں پڑی ہوئی ہیں ہم اپنی طاقت کا صحیح استعمال نہیں کرتے ورنہ ہم میں طاقت اُن سے زیادہ ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ایک پاکستانی مسلمان پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو وہ اکیلا چار یورپین افراد کا مقابلہ کر سکتا ہے لیکن نقص یہ ہے کہ یہ سستی کرتا ہے اور یورپ والے سستی نہیں کرتے۔اہل یورپ کی محنت میں " میں ۱۹۲۴ء میں انگلینڈ گیا تو حافظ روشن علی صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔ان کی طبیعت میں مزاح تھا۔ہم ایک زیر تعمیر مکان کے پاس سے گزرے تو ہم نے دیکھا کہ معمار اور مزدور اِس طرح بھاگ بھاگ کر کام کر رہے تھے جیسے کہیں آگ لگی ہوئی ہے اور وہ اُسے بجھا رہے ہیں۔ہم وہاں سے کچھ دور گئے تو حافظ صاحب نے کہا حضور! کیا آپ نے یہاں کوئی آدمی چلتا ہوا بھی دیکھا ہے؟ میں ان کی بات کو سمجھ گیا اور میں نے کہا آپ درست کہتے ہیں۔میں نے یہاں کسی کو چلتے ہوئے نہیں دیکھا سب کو دوڑتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔غرض وہ لوگ کام کرنے کے عادی ہیں وہ ناممکن کے متعلق بھی کہتے ہیں کہ ہم اُسے کر لیں گے لیکن ہم ممکن کو بھی ناممکن کہہ دیتے ہیں اس لئے ہمارے کاموں میں اللہ تعالیٰ کی برکت نہیں ہوتی لیکن اگر ہم صحیح رنگ میں محنت کریں اور دُعاؤں کی عادت بھی ڈال لیں تو ہمیں بھی سب کچھ حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔“ حضور کی اس تقریر کے بعد ایجنڈا کی اس تجویز کے بارہ میں ” کہ ہر جماعت میں سیکرٹری زراعت مقرر کیا جائے چند ممبران نے اپنی آراء پیش کیں۔محترم میاں غلام محمد اختر صاحب ناظر زراعت نے بھی اس بارہ میں اظہار خیال کیا۔اس پر حضور نے فرمایا :-