خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 619
خطابات شوری جلد سوم ۶۱۹ رت ۱۹۵۶ء یہ ہے کہ ہم پہلے سے ہی خدا تعالیٰ پر بدظنی کر لیتے ہیں حالانکہ احادیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بی یعنی میرے متعلق جس قسم کا گمان میرا بندہ کرتا ہے، اُسی قسم کا سلوک اس سے کرتا ہوں۔اپنے اندر ایمان پیدا کریں میں تحریک جدید کے کارکن پہلے انے اندر ایمان پیدا کریں پھر وہ کاشتکاروں میں ایمان پیدا کریں اور ان کے اندر عمل کا جوش پیدا کریں اگر وہ اس رنگ میں کام کریں تو صرف تحریک جدید کی زمینوں سے اس قدر آمد ہو سکتی ہے کہ اس کے ذریعہ تبلیغی کام کو خوب وسیع کیا جا سکتا ہے اور دُنیا کے کئی ممالک میں مساجد تعمیر کی جاسکتی ہیں۔جب تک میں نے تحریک جدید کی زمینوں کی طرف توجہ نہیں کی تھی تحریک جدید کو ستائیس ہزار روپیہ سالانہ خسارہ ہوتا تھا لیکن جب میں نے زمینیں اپنی نگرانی میں لے لیں تو بجائے ستائیس ہزار روپیہ سالانہ خسارہ کے پچھتر ہزار روپیہ سالانہ نفع آنے لگا۔پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے بڑی برکتیں رکھی ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ تم ان سے فائدہ اُٹھاؤ اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان برکات سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری فصلوں کو حوادث سے محفوظ رکھے۔اگر اللہ تعالیٰ کی برکت ہمارے شامل حال رہے تو ہمارا تھوڑا مال بھی بہت بڑے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے پاس ایک شیشی میں مشک تھی جسے آپ کافی عرصہ تک استعمال فرماتے رہے لیکن وہ ختم ہونے میں نہ آتی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن مجھے خیال آیا کہ دیکھوں اس شیشی میں کس قدر مشک باقی ہے چنانچہ میں نے شیشی کو کھول کر دیکھا اور اس کے بعد وہ مشک جلدی ختم ہو گئی۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک وسق جو تھے میں کافی عرصہ تک اس میں سے جو لے کر استعمال کرتی رہی لیکن وہ جو ختم نہ ہوئے۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ صرف ایک وسق جو تھے تعجب ہے کہ وہ ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔میں دیکھوں تو سہی کہ اب کتنے باقی ہیں چنانچہ میں نے جو کا اندازہ کیا اور اس کے بعد وہ جلد ہی ختم ہو گئے۔کے پس اللہ تعالیٰ مومن کے اموال میں برکت دیتا ہے تم اس پر