خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 611

خطابات شوری جلد سوم ۶۱۱ اورت ۱۹۵۶ء - میرے پاس ہے اور میں اسے پڑھتا رہتا ہوں جس کی وجہ سے آپ لوگوں کے خیالات سے واقف ہوں۔اسی طرح ایسٹ بنگال کے ایک عالم ہمارے ایک دوست سے ملے تو اُنہوں نے کہا کہ میں پرانی طرز کا عالم نہیں بلکہ میں آپ کی جماعت کا لٹریچر بھی پڑھتا رہتا ہوں اگر آپ میرے گھر چلیں تو میں آپ کو سارا لٹریچر دکھا دوں۔پس لوگ لٹریچر پڑھتے ہیں لیکن عام قاعدہ یہ ہے کہ جو لٹریچر مفت دیا جاتا ہے اُسے بہت کم لوگ پڑھتے ہیں اور جو لٹریچر خرید کر لیا جاتا ہے اُسے لوگ پڑھتے ہیں پس اگر لٹریچر مفت تقسیم کرنے کی بجائے فروخت کیا جائے ، چاہے اس کی قیمت بہت معمولی رکھی جائے تو اس سے بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔پس اس سال صدر انجمن احمد یہ کولٹریچر کی اشاعت اور مربیوں کے سائر اخراجات میں زیادتی کرنے کے متعلق صرف مشورہ دیا جاتا ہے۔اگلے سال ہم دیکھیں گے کہ اُس نے ہمارے مشورہ پر کس حد تک عمل کیا ہے۔اگر اس نے ہمارے مشورہ پر عمل نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ اُس نے ہمارے مشورہ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اور اگر عمل کریں ہم سمجھیں گے کہ ہمارے یہاں آنے کا کچھ فائدہ ہوا ہے۔تو ہم پس اس وقت بجائے کوئی نئی تجویز پیش کرنے کے مربیوں کی تعداد اور سائر اخراجات کے بارہ میں صدر انجمن احمدیہ کو صرف یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مربیوں کی تعداد جس قدر بڑھا سکتی ہے اسے بڑھانے کی کوشش کرے اور پھر ان کا سائر بھی اس قدر بڑھائے کہ نہ صرف وہ بیکار نہ رہیں بلکہ ان کے پاس لٹریچر بھی کافی مقدار میں ہو۔“ رپورٹ دورہ جات ناظر صاحبان ناظران کے دورہ جات کی رپورٹ پیش ہونے پر حضور نے فرمایا:۔اس وقت دورہ کے متعلق جو رپورٹ پیش کی گئی ہے میرے نزدیک یہ غیر تسلی بخش ہے۔دورہ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جماعت کے حالات سے واقفیت حاصل ہو جائے لیکن اگر ناظر صاحب رُشد و اصلاح چک چھور، بہوڑ و چک، کرتار پور، گھسیٹ پور اور رام دیوالی وغیرہ چلے جاتے ہیں تو انہیں جماعت کے حالات سے کیا واقفیت حاصل ہو گی۔پھر