خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 610
خطابات شوری جلد سوم ۶۱۰ ت ۱۹۵۶ء جگہوں پر جاسکیں۔لٹریچر کے بارہ میں بھی جب تک ہماری جماعت کوئی اصلاحی قدم نہیں اُٹھائے گی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔جس قدر لٹریچر ہم اس وقت شائع کرتے ہیں بہائی لوگ اس کا پچاسواں حصہ بھی شائع نہیں کرتے لیکن پھر بھی وہ اپنے کام کو وسیع کر رہے ہیں۔حال ہی میں ایک پارسی بہائی ہوا ہے جس نے ایک لاکھ روپیہ اشاعتِ بہائیت کے لئے دیا ہے۔وہ لوگ لٹریچر قیمتاً دیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں لٹریچر مفت تقسیم کے لئے لیا جاتا ہے اور پھر ایک آدمی یہ لٹریچر ہاتھ میں لے کر بازار میں کھڑا ہو جاتا ہے اور پاس سے گزرنے والے ہر شخص کے ہاتھ میں دیتا چلا جاتا ہے چاہے وہ چو ہڑا اور چمار ہی کیوں نہ ہو اور اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ جسے لٹریچر دیا جاتا ہے وہ پڑھنا جانتا ہے یا نہیں بھلا اس قسم کی تقسیم کا کیا فائدہ۔بہائیوں کے ہاں لٹریچر کی تقسیم کے متعلق یہ تاکید ہوتی ہے کہ کسی کو مفت نہ دو بلکہ اسے فروخت کرو۔چاہے چار آنہ کی چیز ایک آنہ میں ہی دے دو لیکن دو قیمتا۔اس طرح لٹریچر لینے والے کو یہ خیال رہتا ہے کہ اس نے قیمتاً چیز خریدی ہے اسے پڑھے بھی۔کراچی میں مجھے ایک بڑے افسر ملے جو ایک بڑے خاندان کے فرد ہیں اُنہوں نے بتایا کہ میں خود احمدی ہوں لیکن میری بیوی احمدی نہیں اس کے لئے لٹریچر گھر لے جا رہا ہوں۔دعا کریں کہ خدا تعالیٰ اسے احمدیت قبول کرنے کی توفیق دیدے۔تین چار دن کے بعد خط آیا کہ وہ بھی احمدی ہو گئی ہے۔اسی طرح ایک اور تھے اُنہوں نے بتایا کہ ان کی بیوی کہتی ہے کہ آپ جماعت کا لٹریچر گھر لایا کریں اردو کا بھی اور انگریزی کا بھی۔انگریزی کا آپ پڑھیں اور اُردو کا میں پڑھوں گی۔پھر ان کی بیوی مجھے ملنے آئیں تو انہوں نے چار سو روپیہ پیش کیا اور کہا میں نے عہد کیا تھا کہ میرا بیٹا ملازم ہوگا تو چارسو روپیہ اشاعت اسلام کے لئے دوں گی ، سو یہ روپیہ حاضر ہے۔پس جو لوگ لٹریچر کے لئے تھوڑی بہت رقم خرچ کرتے ہیں وہ تو اُسے پڑھ لیتے ہیں لیکن مفت لینے والوں میں سے زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں جو اسے پڑھتے نہیں۔پس لٹریچر کی اشاعت کے لئے بھی ہمارے پاس کافی روپیہ ہونا چاہئے۔انڈونیشیا کے ایک مشہور لیڈر کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ اُنہوں نے ہمارے مبلغ سے ذکر کیا کہ آپ کی جماعت کا لٹریچر