خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 612

خطابات شوری جلد سوم ۶۱۲ درت ۱۹۵۶ء رپورٹ کا ہر فقرہ لاہور پر ختم ہوتا ہے۔لاہور بے شک مرکزی مقام ہے اور اُسے بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن جس جگہ ناظر صاحب کے اپنے رشتہ دار ہوں وہاں بار بار دورہ کرنے کے سوائے اس کے کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنا چاہتے تھے۔دورے تبھی مفید ہو سکتے ہیں جب حکومت کے افسروں کی طرح ان کا پروگرام بنایا جائے اور پہلے سے ان کا وقت مقرر کر کے جماعت متعلقہ کو اطلاع دے دی جائے تا کہ وہ اردگرد کی پچاس ساٹھ جماعتوں کے لوگوں کو وہاں بلا لے اور پھر وہاں کانفرنس کی جائے ورنہ جس قسم کے دورے سال کے دوران میں کئے گئے ہیں انہیں ہرگز دورہ نہیں کہا جا سکتا۔دورہ اِس چیز کا نام ہے کہ کسی جماعت میں اردگرد کے پچاس ساٹھ میل تک کے رہنے والے احمدیوں کو اکٹھا کیا جائے اور ان سے جماعتی امور پر تبادلہ خیالات کیا جائے اور پھر جومشورہ طے پائے اُس پر عمل کیا جائے۔پھر میں نے یہ ہدایت بھی دی تھی کہ ناظر صرف اپنے صیغہ کا ہی خیال نہ رکھے بلکہ جب دورہ پر جائے تو صدر انجمن احمدیہ کے ہر ناظر سے ہدایات لے کر جائے اور جو دقتیں اُنہیں پیش ہوں اُن کو دور کرے۔مثلاً اگر بعض جماعتوں میں جھگڑے طے نہ ہو رہے ہوں یا تعلیم کا اچھا انتظام نہ ہو تو چاہے دورہ کرنے والے ناظر کا ان امور سے کوئی تعلق نہ ہو۔اُس کا فرض ہے کہ وہ ان امور کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرے۔بہر حال اس چیز کا نام دورہ نہیں کہ کوئی ناظر چک چھور یا بہوڑ و چک وغیرہ چلا جائے یا لا ہور جہاں ناظر کے رشتہ دار اور دوست موجود ہوں وہاں بار بار جائے دورہ کی تعریف وہی ہے جو میں نے کی ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔اب ڈاکٹر مجھے واپس جانے پر مجبور کر رہے ہیں اس لئے میں اب جاتا ہوں۔66 چوہدری ظفر اللہ خان صاحب شوریٰ کا کام کرائیں گے۔“