خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 609

خطابات شوری جلد سوم ۶۰۹ درت ۱۹۵۶ء وہ تھالی دوسرے دوستوں کے آگے رکھ دی گئی لیکن مجھے یاد ہے کہ ان میں سے کوئی بسکٹ بھی کھایا نہیں گیا۔وہاں سوشل تقریب کے موقع پر پیسٹری وغیرہ کا کوئی رواج نہیں بلکہ وہاں ایسے مواقع پر بہت معمولی چیزیں میزوں پر چھنی جاتی ہیں جن میں اخراجات بہت تھوڑے آتے ہیں۔اسی طرح آپ لوگ بھی کریں کہ چند دوستوں کو چائے پر بلا لیا اور پھر اس موقع پر مبلغ سے مختلف سوالات شروع کر دیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں میاں معراج الدین صاحب مرحوم کی یہ عادت تھی کہ وہ مجلس میں آکر خود ہی سوالات شروع کر دیتے اور کہتے حضور لوگ ایک سوال یہ کرتے ہیں، اس کا کیا جواب ہے؟ اور پھر جب آپ جواب دے دیتے تو ایک اور سوال کر دیتے۔اسی طرح بعض اوقات دو دو چار چار گھنٹہ تک سوالات و جوابات کا سلسلہ جاری رہتا اور باہر سے آنے والے لوگ بڑے خوش واپس جاتے۔میاں معراج الدین صاحب مرحوم کا یہ طریق تھا کہ وہ باہر سے آنے والوں سے پوچھتے رہتے تھے کہ مخالف کیا کیا اعتراض کرتے ہیں اور اگر کوئی نیا اعتراض مل جاتا تو وہ مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کر دیتے تا کہ دوسرے لوگ بھی آپ کے جواب سے مستفید ہوں۔اب یہ دیکھ کر افسوس آتا ہے کہ اس قسم کے لوگ موجود نہیں۔لوگ مجلس میں آتے ہیں اور خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔پس تم یہ طریق اختیار کرو اور اس سے فائدہ اُٹھا کر لوگوں کو سلسلہ سے روشناس کرنے کی کوشش کرو۔اس قسم کی دعوتوں میں زیادہ تکلیف کی ضرورت نہیں ہوتی۔چائے کی ایک پیالی آگے رکھ دی اور دیسی بسکٹ جو بالعموم تنوروں پر بکتے ہیں خرید کر ایک ایک دو دو بسکٹ ہر ایک کے آگے رکھ دیئے۔اس طرح چالیس دوست بھی ایک موقع پر بلائے جائیں تو روپیہ دو روپیہ سے زیادہ خرچ نہیں ہوگا۔دوسرے دن چالیس آدمی اور بلا لئے اس طرح تبلیغ کا کام وسیع کیا جا سکتا ہے۔صدر انجمن احمد یہ کو چاہئے کہ اگر مزید مربی نہیں مل سکتے تو جو مربی موجود ہیں انہی سے کام لیا جائے اور انہیں فارغ بیٹھنے نہ دیا جائے۔مربیوں کی تعداد فوری طور پر ۳۵ سے ۷۰ کر دینے کے یہ معنے ہیں کہ چپڑاسی بھرتی کر لئے جائیں۔اسی طرح مربیوں کو کافی لٹریچر دو اور ان کا سفر خرچ بھی زیادہ رکھو تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ