خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 607
خطابات شوری جلد سوم ۶۰۷ رت ۱۹۵۶ء رکھا گیا ہے اور مربیوں کے پاس اتنا کام نہیں ہوتا اس لئے ان کے سائر اخراجات کم رکھے گئے ہیں مگر یہ بات درست نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مربیوں سے صحیح رنگ میں کام نہیں لیا جا تا۔اگر ان کے سائر اخراجات کے لئے کافی روپیہ رکھا جائے تو ایک ایک مربی لاکھوں افراد تک سلسلہ کا پیغام پہنچا سکتا ہے۔مگر اب چونکہ بجٹ بن چکا ہے اس لئے اور تو کچھ نہیں کیا جا سکتا صرف اتنا مدنظر رکھا جائے کہ موجودہ بجٹ کے اندر اندر مربیوں کو اتنے اخراجات مہیا کئے جائیں کہ وہ سارا سال دورہ کر سکیں اور آئندہ ہر سال ایک طرف تو مربیوں کی تعداد بڑھائی جائے اور دوسری طرف ان کے سائر اخراجات میں زیادتی کی جائے تاکہ ہر جگہ سلسلہ کی آواز پہنچ جائے۔جہاں تک مربیوں کی تعداد کا سوال ہے وہ فوری طور پر نہیں بڑھائی جا سکتی۔اس وقت صدر انجمن احمدیہ کے پاس صرف آٹھ شاہد امیدوار ہیں۔جنہیں مربی مقرر کیا جا سکتا ہے اور پھر ممکن ہے کہ ان آٹھ میں سے بھی کوئی فیل ہ جائے اور اس طرح یہ تعداد اور بھی کم ہو جائے۔بہرحال اس مشکل کا علاج یہی ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں تا کہ ہمیں اتنے شاہدین مل سکیں کہ اپنے ملک میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی کام کرنے کے لئے ۸۰،۸۰،۷۰،۷۰ مربی ہو میسر آسکیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس اس وقت جس قدر مربی موجود ہیں اگر انہی سے صحیح طور پر کام لیا جائے تو ہمارا کام بہت کچھ ترقی کر سکتا ہے کیونکہ چندہ کی زیادتی کا تمام تر مدار مربیوں پر ہی ہوتا ہے اگر صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ ۲۵ لاکھ تک پہنچ جائے تو مربیوں کے لئے پانچ لاکھ کی رقم بھی رکھی جاسکتی ہے اور اگر ہم سو ڈیڑھ سو مربی رکھیں تو پاکستان کے ہر ضلع میں تین تین مربی رکھے جا سکتے ہیں جو ہر سال ضلع کا دورہ کریں۔اس وقت در حقیقت کوئی کام نہیں ہو رہا کیونکہ اس وقت جو ۳۵ مربی موجود ہیں ان سے بھی نظارت رُشد و اصلاح صحیح طور پر کوئی کام نہیں لے رہی۔انہیں ایک جگہ پر ناکارہ کر کے بٹھا دیا گیا ہے اور اُن سے کوئی کام نہیں لیا جا رہا اگر وہ مربیوں سے کام لے تو جماعت کی ترقی کی رفتار بڑی تیزی سے بڑھ سکتی ہے مگر اس کے لئے پھر بجٹ کا سوال آ جاتا ہے۔اگر اس وقت مربیوں کے سائر اخراجات کو بڑھانے کی ہدایت کی گئی تو صدر انجمن احمد یہ کے لئے مشکلات پیدا۔