خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 606
خطابات شوری جلد سوم رت ۱۹۵۶ء بے شک زندگی وقف کرو، یہ اچھی بات ہے۔اب آپ لوگ دیکھیں کہ ماں کی بچپن سے کان میں ڈالی ہوئی بات اس نوجوان کو یا د رہ گئی۔اگر دوسرے دوست بھی اپنے بچوں کے کانوں میں پچپن سے ہی دین کی باتیں ڈالتے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی زندگیاں وقف نہ کریں۔اسی طرح مجھے کراچی سے ایک اور نوجوان نے لکھا کہ میں نے وقف کیا کرنا ہے پچپن سے ہی میرے کانوں میں یہ بات ڈالی جاتی رہی ہے کہ تم نے بڑا عہدہ حاصل کرنا ہے۔اب میں بچپن سے ہی کان میں پڑی ہوئی بات کس طرح چھوڑ دوں۔پس یہ ضروری امر ہے کہ ماں باپ اپنی اولادوں کے کانوں میں یہ بات ڈالتے رہیں کہ سب سے بڑا عہدہ یہی ہے کہ دین کی خدمت کی جائے۔اس وقت تک یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ کھاتے پیتے ہیں، اُن میں سے ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ اس کی اولا د دُنیا کی تعلیم حاصل کرے۔اگر سو ڈیڑھ سولڑ کا ہر سال زندگی وقف کرے تو ہم بڑی آسانی سے ہر سال مربیوں کی تعداد بڑھا سکتے ہیں اور اس طرح یہ سوال بڑی آسانی سے حل ہو جائے گا کہ مربیوں کی تعداد سو ڈیڑھ سو تک بڑھا دی جائے۔بہر حال مربیوں کی تعداد بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس نو جوان آئیں جو اپنی زندگی دین کے لئے وقف کریں ور نہ یونہی تقریریں کرنے سے ان کی تعداد نہیں بڑھ سکتی۔پس اگر آپ کا یہ مطالبہ کہ مربیوں کی تعدادہ ۷ تک بڑھا دی جائے صدر انجمن احمد یہ مان بھی لے تب بھی کچھ نہیں ہو گا۔وہ آپ کو ۷۰ چپڑاسی دے دیں گے، مبلغ ان کے پاس موجود نہیں۔اس وقت ان کے پاس صرف ۸ نو جوان ہیں جو شاہد کلاس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اُن آٹھ نو جوانوں کو ہی شاہد کلاس پڑھنے کے بعد مربی کے کام پر لگا سکتے ہیں۔میرے نزدیک ایک ضروری بات یہ ہے کہ مربیوں کا سائر خرچ بڑھایا جائے تا کہ وہ تربیت وغیرہ کا کام وسیع پیمانہ پر کر سکیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے مخالف علماء کا ایک ایک آدمی بعض دفعہ چار چار پانچ پانچ سو میل تک چلا جاتا ہے اور ہر جگہ تقریریں کرتا پھرتا ہے لیکن ہمارا مربی جب کسی جگہ جاتا ہے تو وہیں بیٹھ جاتا ہے کیونکہ اُس کے سفر کے لئے اخراجات مہیا نہیں کئے جاتے۔رامہ صاحب نے کہا ہے کہ انسپکٹروں کو چونکہ ایک جگہ پر قیام نہیں کرنا پڑتا بلکہ انہیں ہر وقت سفر میں رہنا پڑتا ہے، اس لئے ان کا سائر خرچ زیادہ