خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 557

خطابات شوری جلد سوم ۵۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء اسلام ذہنیت بدلنے کا نام ہے اب دیکھ لو۔خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی ایک نشان کے طور پر حفاظت تو کر دی لیکن دراصل یہ ذمہ داری صحابہ کی تھی۔خدا تعالیٰ نے کہا میرا کام حفاظت نہیں ہاں موت سے بچانا میرا کام ہے اور موت سے میں بچالوں گا لیکن اُس نے حملہ میں کوئی روک پیدا نہیں کی۔نپس کچھ کام جماعت کو بھی کرنے پڑتے ہیں۔خلیفہ پر پابندیاں عائد نہیں کی جاسکتیں۔خلیفہ اپنا کام کرے گا اور جماعت کو اپنا فرض ادا کرنا ہو گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ذہنیت کو بدلا جائے۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے کچھ مسائل سمجھ لینے اور نماز و روزہ کی پابندی کرنے کا نام ہی اسلام سمجھ لیا ہے۔حالانکہ یہ سب چیزیں علامات ہیں۔اسلام ذہنیت بدلنے کا نام ہے۔صلوۃ خود کوئی چیز نہیں، ہاں یہ ایک ذریعہ ہے فحشاء اور منکر سے بچنے کا۔اسی طرح روپیہ دینا کوئی چیز نہیں بلکہ اصل مقصد یہ روح پیدا کرتا ہے کہ مالوں میں پاکیزگی پیدا کی جائے۔اسی طرح حج ہے، خالی حج میں بھی کوئی فائدہ نہیں۔انسان حج کے لئے جاتا ہے تو اُس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر اگر اُسے اپنا ملک بھی چھوڑنا پڑے تو وہ اس سے دریغ نہیں کرے گا یعنی ضرورت پڑنے پر وہ وطن کی قربانی بھی کر دے گا۔آجکل وطن کی محبت باقی سب چیزوں کی محبت سے بڑھی ہوئی ہے اور حج میں یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر ان کو وطن چھوڑنا پڑتا ہے۔اگر یہ غرض باقی نہ رہے تو خالی حج کوئی چیز نہیں۔مجھے یاد ہے جب میں حج کر کے واپس آ رہا تھا تو جس جہاز پر میں واپس آ رہا تھا اُس کا کپتان انگریز تھا۔اس نے مجھ سے کہا میں نے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔آپ کی عمر ۲۳ ۲۴ سال کی ہے۔( میں اُس وقت خلیفہ نہیں بنا تھا )۔آپ حج کر کے آئے ہیں ، اس لئے اب آپ کو نماز روزے کی ضرورت تو نہیں رہی۔میں نے کہا حج کا نماز ، روزہ ترک کرنے سے کیا تعلق ہے؟ اُس نے کہا مسلمان کہتے ہیں کہ حج کرنے سے نماز ، روزہ معاف ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا جب آپ نیا سوٹ پہن لیتے ہیں تو کیا دوسرے سوٹ کی حفاظت ترک کر دیتے ہیں؟ اس پر وہ ہنس پڑا۔میں نے کہا حج کیا ہے؟ ایک نیا سوٹ ہے۔اب کیا اُس نئے سوٹ کی حفاظت کی وجہ سے دوسرے لباس کی حفاظت ترک کر دی جائے گی ؟ مجھے خوب یاد ہے کہ جس سال میں نے حج کیا اُس سال سُورت کے ایک تاجر نے بھی