خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 556
خطابات شوری جلد سوم ۵۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء ایک جگہ آرام کرنے کے لئے لشکر ٹھہر گیا۔صحابہ کا خیال تھا کہ چونکہ ہم اب مدینہ کے قریب آگئے ہیں اس لئے خطرہ باقی نہیں رہا مگر وہ تھکے ہوئے تھے اس لئے علیحدگی میں آرام کرنے کے لئے بکھر گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے ایک درخت کے نیچے رہ گئے۔آپ نے اپنی تلوار درخت کے ساتھ لٹکا دی اور خود آرام کی خاطر لیٹ گئے۔لمبے سفر کی تھکاوٹ تھی اس لئے آپ کو نیند آ گئی۔ایک کافر جس کا بھائی مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے مارا گیا تھا اُس نے یہ قسم کھائی تھی کہ چونکہ اُس کے بھائی کو مارنے والے مسلمان ہی ہیں اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والے ہیں اس لئے میں اپنے بھائی کا انتقام لینے کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماروں گا۔چنانچہ وہ اس ارادہ سے چوری چھپے آپ کے ساتھ ساتھ آ رہا تھا۔اس نے اس موقع کو جب صحابہ کسی خطرہ کا احساس نہ کرتے ہوئے آرام کی خاطر منتشر ہو گئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے سایہ میں اکیلے سوئے ہوئے تھے ، غنیمت جانا۔اُس نے درخت سے تلوار اُتاری اور آپ کو آواز دے کر کہا اب کون تم کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اُس وقت باوجود اس کے کہ آپ بے ہتھیار تھے اور بوجہ لیٹے ہوئے ہونے کے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے ، آپ نے نہایت اطمینان اور سکون سے جواب دیا۔اللہ۔اب اللہ کا لفظ تو سارے لوگ کہتے ہیں۔فقیر بھی اللہ اللہ کہتے ہیں لیکن ظاہر میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اللہ کہا تو خدا تعالیٰ کی ذات آپ کے پیچھے موجود تھی۔آپ کا یہ لفظ زبان سے نکالنا تھا کہ اُس دشمن کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ہے وہ تلوار آپ نے فوراً اُٹھالی۔اب وہ شخص جو آپ کے قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا تھا۔آپ نے معلوم کرنا چاہا کہ آیا میرے منہ سے اللہ کا لفظ سُن کر بھی اسے سمجھ آئی ہے یا نہیں آپ نے اُسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اب مجھ سے تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ تو اُس نے کہا آپ ہی رحم کریں تو مجھے چھوڑ سکتے ہیں۔چنانچہ آپ نے چھوڑ دیا اور فرمایا کہ تمہیں بھی کہنا چاہئے تھا کہ اللہ ہی بچا سکتا ہے کیا میرے منہ سے سننے کے باوجود بھی تمہیں اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔