خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 558
خطابات شوری جلد سوم ۵۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء حج کیا تھا۔میں نے دیکھا جب وہ شخص منیٰ کی طرف جا رہا تھا تو وہ اُردو کے نہایت گندے عشقیہ شعر پڑھ رہا تھا۔اتفاقاً جس جہاز پر میں واپس آ رہا تھا اُس پر وہ تاجر بھی سوار تھا۔جب اُسے پتہ لگا کہ میں کون ہوں تو اس شخص نے کہا خدایا! یہ جہاز جس میں یہ شخص ہے غرق کیوں نہیں ہو جاتا۔میں نے سُنا تو کہا اگر یہ جہاز غرق ہو گیا تو تو کہاں جائے گا؟ وہ شخص دن میں کوئی نماز نہیں پڑھتا تھا لیکن یہ بات اکثر کہتا رہتا تھا کہ خدایا! وہ جہاز جس میں یہ شخص سوار ہے غرق کیوں نہیں ہو جاتا۔ایک دن میں نے اُس سے سوال کیا کہ کیا آپ حج کر کے آئے ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔میں نے کہا میں نے آپ کو پہلی دفعہ اُس وقت دیکھا تھا جب آپ ایک اونٹ پر سوار ہو کر منٹی کی طرف جارہے تھے۔یہ وقت دعا کا ہوتا ہے لیکن آپ اُس وقت فحش اور گندے شعر پڑھ رہے تھے۔اسی طرح آپ نماز بھی نہیں پڑھتے۔پھر آپ پر کون سی مصیبت پڑی تھی کہ آپ حج کے لئے گئے اور اتنا روپیہ تباہ کیا؟ اُس نے کہا میں میمن قوم کا ایک فرد ہوں، میرا باپ ایک بڑا تاجر ہے، ہماری دُکان سے ہر روز لوگ دس دس پندرہ پندرہ ہزار روپیہ کا سو دالے جاتے ہیں، ہمارے ساتھ کی دُکان پر دو بھائی کام کرتے ہیں۔ان میں سے ایک بھائی حج کر کے آیا اور واپس آ کر اُس نے دُکان پر ایک بورڈ لگایا۔جس پر اُس نے اپنے آپ کو حاجی لکھا۔اب اس بورڈ کو پڑھ کر ہر شخص اُن کی دکان پر جانے لگا جس سے ہماری بکری کم ہو گئی۔میرے باپ نے کہا تم بھی حج کر آؤ تا کہ ہم بھی اپنی دکان پر حاجی کا بورڈ لگا سکیں نہیں تو ہماری دکان ختم ہو جائے گی ، ورنہ مجھے حج سے کیا کام؟ حقیقت یہ ہے کہ مذہب قبول کرنے کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ انسان کی حرکات، افکار، اور دماغ سب تبدیل ہو جائیں۔اگر یہ نہیں ہوتا تو کسی مذہب کے قبول کرنے سے اُسے کچھ بھی نہیں ملتا۔باقی سب چیزیں رسمی ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب فرمایا اگر میں کسی انسان کو اپنا خلیل بنانا چاہتا تو ابوبکر کو بناتا سے یہ تم پر فضیلت رکھتا ہے۔تم کہہ سکتے ہو کہ اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے۔اسے تم پر جو فضیلت حاصل ہے وہ نماز، روزہ کی وجہ سے نہیں بلکہ ان جذبات کی وجہ سے ہے جواس کے دل میں موجزن ہیں۔نماز اور روزہ کا ادا کرنا بھی ضروری ہے لیکن ان کے ہوتے ہوئے