خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 38

خطابات شوری جلد سوم ۳۸ مشاورت ۱۹۴۴ء ایسی ہے جس نے جلسہ سالانہ کا چندہ نہیں دیا۔ایسی جماعتیں یقیناً اس قابل ہیں کہ انہیں سرزنش کی جائے۔۳۰ ، ۳۵ جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے ۲۵ فیصدی سے کم دیا ہے۔اور اتنی ہی تعداد ایسی ہے جس نے پچاس فیصدی سے کم دیا ہے۔یہ اتنی بڑی غفلت ہے جو ذہن میں بھی نہیں آ سکتی۔اگر شرح چندہ پندرہ فیصدی ہوتی تو اس کا اثر یہی ہوتا کہ ان مخلصین پر جو باقاعدہ چندہ دیتے ہیں اور زیادہ بار پڑتا اور نہ دینے والے اسی طرح ہنستے پس اس لئے میں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ آئندہ جو شرح مقرر ہو اُس سے دو فیصدی زیادہ ان جماعتوں کے لئے ہو جنہوں نے غفلت کی ہے اور چندہ دیا نہیں۔اور جنہوں نے پچاس فیصدی سے کم دیا ہے اُن کے لئے دوسروں سے ایک فیصدی زیادہ رکھی جائے۔اب جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ چندہ جلسہ سالانہ کی شرح دس فیصدی سے زائد نہ ہو 66 وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۳۵۰ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :- دو میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں۔“ تیسرا دن بفضل خدا ہماری آمد بڑھ رہی ہے مجلس مشاورت کے تیسرے دن سب کمیٹی بیت المال کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ آمد پیش ہوا۔اس پر بعض ممبران نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس کے بعد حضور نے جماعتی چندوں کی وصولی کے سلسلہ میں اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا :- اس وقت دوستوں کے سامنے صدر انجمن احمدیہ کا تجویز کردہ اور سب کمیٹی مشاورت کا تصدیق کردہ بجٹ آمد پیش ہے۔بعض دوستوں نے بوجہ اس کے کہ بجٹ آمد و اخراجات اکٹھا ہے بجائے آمد کے متعلق بحث کرنے کے اخراجات کا سوال اُٹھا دیا ہے حالانکہ اخراجات کا بجٹ بعد میں پیش ہو گا۔ابھی صرف آمد کا بجٹ پیش ہے اور اس کے متعلق