خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 37
خطابات شوری جلد سو ۳۷ مشاورت ۱۹۴۴ء کہ تمہیں مبلغوں کے نام بتائیں تو وہ کھسیانے ہو کر یہ نہ کہتے کہ میں نے سوچا نہیں۔واقع یہ ہے کہ مبلغ ہیں ہی نہیں۔ناظر صاحب کے نام نہ پیش کرنے پر بعض لوگ ہنسے لیکن جن لوگوں نے خود اپنی ذمہ واری کو ادا نہ کیا اُنہیں ہننے کا کیا حق ہے۔ہاں جس نے اپنے بیٹوں میں سے کم سے کم ایک کو اچھی تعلیم دلا کر دین کے لئے وقف کر دیا اور باقی بیٹوں پر فرض کر دیا کہ وہ اسے خرچ دیں، وہ بے شک ہنسے۔مگر ایسا تو شاید سو دوسو میں سے ایک ہوگا باقی سب وہ ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ واری کو ادا نہیں کیا۔ایسے لوگوں کے لئے یہ استغفار کا موقع تھا اور انہیں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے تھی۔پس میں بار بار جماعت کو توجہ دلا چکا ہوں اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے بچوں کو دین کے لئے وقف کرو۔اگر کسی کے زیادہ بچے ہیں تو وہ ایک کو وقف کرے اور اُس کے بھائیوں کے ذمہ لگائے کہ اسے خرچ دیتے رہیں اور انہیں کہے کہ یہ دین کا کام کرتا ہے اس لئے تمہارا فرض ہے کہ اپنی آمد کا اتنا حصہ اس کو دیتے رہو اور یا پھر وہ اپنی جائداد کا کچھ حصہ اُس کے لئے وقف کر سکتا ہے۔وصیت تو زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ کی جائز ہے اور یہ اسی لئے ہے کہ تا انسان چاہے تو دوسرے کاموں کے لئے بھی وقف کر سکے۔پس چاہئے کہ جائداد کا کچھ حصہ اس رنگ میں وقف کر دیا جائے کہ جو تبلیغ کرے گا یہ اُسے ملے گا۔پس وہ قربانی کرو جو سچے مومن کے شایانِ شان ہے اور اپنے بچوں کو مدرسہ احمدیہ میں تعلیم کے لئے بھیجو۔بالخصوص کھاتے پیتے لوگوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔“ چندہ جلسہ سالانہ کی شرح دس فیصد سب کمیٹی بیت المال کی ایک تجویز تھی کہ دس فیصدی مقرر کی جائے۔“ چندہ جلسہ سالانہ کی شرح سال حال کے مطابق اس کی بابت بعض نمائندگان کی آراء کے بعد حضور نے فرمایا :- گزشتہ سال ناظر صاحب نے چندہ جلسہ سالانہ پندرہ فیصدی تجویز کیا تھا مگر میں نے دس فیصدی رکھا۔اب فہرست شائع ہو گئی ہے اس میں قریباً ۱۸۴ جماتیں ہیں جنہوں نے ایک فیصدی چندہ بھی نہیں دیا۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اتنی بڑی تعداد جماعتوں کی