خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 522

خطابات شوری جلد سوم ۵۲۲ مشاورت ۱۹۵۲ء بڑھ جاتی ہے۔مثلاً یہ وعدہ کر لو کہ اگر سالانہ ترقی ملی تو پہلے ماہ کی ترقی مسجد فنڈ میں دے دوں گا۔یعنی اگر پچاس روپے کی بجائے ۵۴ روپے تنخواہ ہو جاتی ہے تو یہ تنخواہ اسے بارہ مہینہ ملنی ہے بلکہ اگر اس نے ہمیں سال نوکری کرنی ہے تو یہ تنخواہ اسے بیس سال تک ملے گی۔وہ نیت کر لے کہ میں پہلے ماہ کی ترقی مسجد فنڈ میں دے دوں گا۔پھر پیشہ ور ہیں وہ اپنی آمدن کا اندازہ لگا لیں اور پھر اس پر جو زیادتی ہو اُس کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دے دیں۔مثلاً ایک شخص کی بارہ ہزار روپیہ آمد تھی۔اگلے سال وہ تیرہ ہزار روپیہ ہو گئی اس ایک ہزار روپیہ کی زیادتی کا دسواں حصہ وہ مسجد فنڈ میں دیدے۔اگر وہ یہ نیت کر لے کہ اس میں سے دسواں حصہ وہ مسجد فنڈ میں دیدے گا تو کون سا بوجھ ہے۔پھر جو لوگ نئے ملازم ہوں وہ اپنی پہلی تنخواہ کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دیں تو اس سے زیادہ بوجھ نہیں پڑتا۔اگر پانچ سو روپیہ تنخواہ ہے تو پچاس روپیہ مسجد فنڈ میں دیدے۔پھر اگر یہ رقم ایک ہی ماہ میں ادا نہیں ہو سکتی تو ۲۵ ۲۵ روپے ماہوار کر کے دیدے۔ساڑھے بارہ بارہ روپے کر کے دیدے۔تو اس طرح کافی رقم اکٹھی ہو جاتی ہے صرف ارادہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔میں نے بوہرا تاجروں میں دیکھا ہے کہ وہ دن میں ایک سو دا ضرور خدا تعالیٰ کے نام پر کرتے ہیں۔اسی طرح ہمارے تاجر بھی کر سکتے ہیں۔ہندو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں ہم عموماً کپاس ہندوؤں کے پاس بیچتے تھے۔وہ ہمیشہ ایک سو دا مذہب کے نام پر کیا کرتے تھے اور مجھے کسی دوست نے بتایا کہ اس طرح سات کروڑ روپیہ سالانہ آجاتا ہے اور اس سے ان کے سارے قومی ادارے چلتے ہیں۔اب ہمارا تاجر اگر نیت کر لے کہ دن میں پہلا سو دا جو میں کروں گا اس کا نفع مذہب کو دوں گا تو کتنی آمد ہو سکتی ہے۔چلو بخل کی وجہ سے وہ مہینہ میں ایک سو دا ہی خدا تعالیٰ کے نام پر کر دے تب بھی تھیں ہزار روپیہ سالانہ سے زیادہ آمد ہوسکتی ہے۔اسی طرح کئی اور طریق ہیں جن سے آمد بڑھائی جاسکتی ہے۔مثلاً قرآن کریم کہتا ہے کہ جب فصل پک جائے تو اُس کا حق دو۔جب فصل پکتی ہے تو زمینداروں کے حو صلے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔اگر کوئی اُن سے مانگتا ہے تو وہ خوب دیتے ہیں۔اب اگر کوئی زمیندار یہ کہے کہ فی ایکڑ ایک کرم فصل خدا تعالیٰ کی ہے یا مسجد کے لئے ہے تو اس میں کونسی مشکل بات ہے۔ایک کرم کو تو زمیندار کچھ سمجھتا ہی نہیں۔ایک کرم میں پچیس فٹ