خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 523

خطابات شوری جلد سوم ۵۲۳ مشاورت ۱۹۵۲ء ہوتے ہیں۔ایک ایکڑ میں سے ایک کرم دینے کے یہ معنے ہوئے کہ ایک ایکڑ کا دوسواں حصہ۔اگر جماعت کے چار ہزار زمیندار بھی ہوں تو دوا یکٹر کی آمد تو آجائے گی۔ایک ایکڑ کی پیداوار ۲۵ - ۲۶ من اوسط ہوتی ہے اور دو ایکڑ کے معنے یہ ہوئے کہ ہمیں ۵۰ من پیدا وار آجائے گی۔اسی طرح تو ریا، کپاس اور دوسری فصلوں کا حساب لگا ئیں تو بغیر اسکے کہ ہمیں اتنی تکلیف ہو جتنی بالوں میں کھجلی کرنے سے ہوتی ہے ہمیں ایک ہزار کے قریب روپیہ آ سکتا ہے۔دوا یکٹر کپاس ہو اور میں من کپاس فی ایکڑ بھی نکل آئے تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ اگر ۴۰ روپے فی من کپاس کی قیمت ہو تو ۱۶۰۰ روپیہ آ گیا۔اسی طرح دوسری فصلوں کو ملا کر بغیر کوئی دقت محسوس کئے اڑھائی تین ہزار روپیہ آ جاتا ہے۔بلکہ ایک زمیندار اس سے بھی زیادہ دے دیتا ہے۔ان دنوں اس کی ہمت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔یہ طریق ایسا ہے کہ اگر ہم اسے استعمال کریں تو جماعت میں حرکت پیدا ہو جائے گی۔پس اپنے اندر حرکت پیدا کرو اور ایسا رنگ پیدا کرو کہ نیکی زندہ رہے۔بہر حال گاڑی کو چلنے دو، کھڑا نہ ہونے دو۔مسجد کی تحریک کے بارہ میں عورتوں کا جوش بڑھتا جاتا ہے لیکن مردوں کا جوش کم ہے۔لوگوں نے وعدے کئے ، تقریریں ہوئیں، جلسے ہوئے ، اخبارات میں تحریکیں ہوئیں لیکن مسجد واشنگٹن کا چندہ ۳۶ ہزار سے نہیں بڑھا۔پس کوئی نہ کوئی نیت کر لو۔مثلاً وہی لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں یہ بتا دیں کہ جو تجویزیں میں نے بتائی ہیں کیا ان پر عمل کرنے کے لئے وہ تیار ہیں؟ مثلاً ملازمین کو سالانہ ترقی ملے تو پہلے ماہ کی ترقی وہ مسجد فنڈ میں دے دیں۔ملازم بولیں کہ کیا وہ ایسا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں؟“ اس پر سب ملازمین کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے ایسا کرنے کا اقرار کیا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا۔اب تاجر بولیں ، کیا وہ مہینہ میں سب سے پہلے سو دے یا سب سے آخری سو دے کا نفع مسجد فنڈ میں دیں گے؟ تاجر لوگ عہد کر لیں کہ روزانہ نہیں تو ہفتہ یا مہینہ میں ایک دن کے پہلے سو دے کا نفع مسجد فنڈ میں دیں گے۔“ اس پر تاجر دوست اُٹھے اور اُنہوں نے اس تجویز پر عمل کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ ہم مہینہ میں سب سے پہلے سو دے کا نفع مسجد فنڈ میں دیا کریں گے۔حضور نے فرمایا : -