خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 521
خطابات شوری جلد سوم ۵۲۱ مشاورت ۱۹۵۲ء حضرت خلیفہ امسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے بخاری لے دیں۔بخاری ان دنوں ۳۰،۲۵ روپیہ کو آتی تھی۔آپ نے فرمایا اس وقت بخاری خرید کر دینے کی مجھے تو فیق نہیں۔وہ غصہ میں آ کر کہنے لگا کہ یوں کہو کہ میں نے بخاری لے کر دینی نہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے فرمایا میں سچ کہہ رہا ہوں کہ مجھ میں اتنی طاقت نہیں۔اُس نے کہا میں دھوکا میں نہیں آ سکتا ایک لاکھ کی جماعت ہے۔اگر ہر شخص مرزا صاحب کو ایک روپیہ نذرانہ بھی دے تو ان کو ایک لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہوتی ہے اور اگر وہ ایک چوٹی بھی آپ کو نذرانہ دیں تو آپ کو پچیس ہزار روپیہ کی آمد ہوتی ہے۔جب اس نے یہ کہا تو آپ نے فرمایا کہ تم بتاؤ اب تک تم نے مجھے کتنی چونیاں نذرانہ دی ہیں۔مساجد کیلئے چندہ کی تحریک پس یہ قیاسات ہیں، انہیں واقعات پر مبنی نہیں سمجھنا چاہئے۔میں نے تحفہ شہزادہ ویلز کے چھپوانے کی تحریک کی تھی تو جماعت نے ایک خاصی رقم جمع کر دی تھی۔اسی طرح اگر مساجد کے لئے بھی کچھ نہ کچھ ہمت کی جائے تو کام بن سکتا ہے۔جہاں یہ بات غلط ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے پاس ۲۵ ہزار روپیہ آتا تھا، وہاں یہ بات بھی تو غلط ہے کہ آپ کے پاس کچھ نہیں تھا۔آپ کھاتے پیتے تھے اور آپ کے پاس روپیہ بھی آتا تھا۔اس زمانہ میں سب سے زیادہ چندے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے ہی ہوتے تھے۔تو جماعت کو اس بارہ میں کوئی نہ کوئی کوشش تو کرنی چاہئے۔چاہے تم ایک آنہ فی کس دو یا ایک پیسہ فی کس دو۔آخر یہ تو سمجھا جائے کہ اس بارہ میں کوئی نہ کوئی کوشش ہو رہی ہے۔چلو یہی فیصلہ کر لو کہ جب کسی بیٹے یا بیٹی کی شادی ہوگی تو ہم کچھ نہ کچھ مسجد واشنگٹن کے لئے دیں گے۔مجھ سے نکاح پڑھائے جاتے ہیں وہ ہزار ڈیڑھ ہزار ہو جاتے ہیں اور جو نکاح اپنی اپنی جگہوں پر ہوتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔اگر پانچ روپیہ فی نکاح اوسط رکھ لی جائے تو ہیں چھپیں ہزار روپیہ آ جانا چاہئے۔پھر بیٹا پیدا ہوتا ہے یا بیٹی پیدا ہوتی ہے تو کچھ نہ کچھ مسجد کے لئے دے دیں۔ایک ہزار پر ایک پیدائش ماہوار ہوتی ہے۔ہمارے ملک میں ایک فیصدی کی سالانہ ترقی ہوتی ہے اور ہماری جماعت میں تو اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔اگر اڑھائی فیصدی ہی ترقی ہو تو اڑھائی روپیہ تو یہی ہو جاتا ہے۔پھر خوشی کی اور تقاریب ہیں، ان کو ملا لو تو یہ آمد اور بھی