خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 512
خطابات شوری جلد سوم ۵۱۲ مشاورت ۱۹۵۲ء دوسری جگہوں کے رہنے والے صحابہ کو نہ دیا جائے۔مثلاً اپنی سہولت کے لئے یہ قاعدہ بنا سکتے ہیں کہ ہر جماعت جو ایک نمائندہ منتخب کر سکتی ہے اگر اسے ایک نمائندہ کا حق ہے تو اسے ایک زائد نمائندہ بھیجنے کا حق ہوگا جو صحابی ہوگا کیونکہ ہم ایک کے ٹکڑے نہیں کر سکتے۔یا مثلاً یہ رکھا جائے کہ ۲۵ فیصدی نمائندگی پر ایک زائد نمائندہ صحابی آئے ، اس طرح ہر جماعت کو نمائندہ بنانے کا حق حاصل ہو جائے گا اور کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔بظاہر پچیس فیصدی نمائندگی کا حق دے کر ہم نے صحابہ کو کوئی زائد نمائندگی نہیں دی بلکہ پہلے انہیں ۱۰۰ فیصدی نمائندگی حاصل ہوا کرتی تھی وہ ہم نے پچیس فیصدی کر دی ہے۔صحابہ ویسے ہی نمائندگی کے حقدار ہیں جیسے دوسرے لوگ۔صرف یہ علیحدہ نمائندگی کا حق اس لئے دیا گیا ہے تا صحابہ کا عصر کم نہ ہو۔اگر کسی جماعت کو ۱۲ نمائندے بھیجنے کا حق ہے تو اسے تین صحابہ بھیجنے کا بھی حق ہوگا۔اگر کسی جماعت کے نمائندے چار سے کم ہوں تب بھی وہ ایک صحابی بطور نمائندہ بھیج سکتی ہے۔یہ تجاویز ہیں ، آپ ان پر غور کر لیں۔پہلے دن مجلس شوریٰ میں صحابہ کی نمائندگی مفقود تھی۔آج ۱۹۰۰ء سے قبل کے صحابہ کو تو نمائندگی مل گئی ہے لیکن ۱۹۰۰ء سے بعد کے صحابہ میں سے جن پندرہ صحابہ کو نمائندگی کا حق ملنا تھا وہ نہیں ملا کیونکہ ان کے انتخاب کا ذریعہ نہیں بتایا گیا تھا۔“ تیسرا دن ۱۳۔اپریل ۱۹۵۲ء جماعتی کاموں کو ترقی دینے کے لئے زریں ہدایات کو مجلس مشاورت کا آخری اجلاس شروع ہوا۔عام کا رروائی سے قبل حضور نے جماعتی کاموں کو ترقی دینے کے لئے احباب جماعت کو بیش قیمت ہدایات سے نوازا۔تلاوت قرآن کریم اور دعا کے بعد فرمایا: - کل صدرانجمن احمدیہ کے بجٹ کے متعلق فیصلہ کیا گیا تھا کہ اصولی طور پر اعداد و شمار کو قبول کر لیا جائے لیکن بعد میں مزید غور کر کے میں اس میں مناسب تبدیلی کروں گا تا کہ