خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 513

خطابات شوری جلد سوم ۵۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء بجٹ کم ہو جائے۔جن دوستوں نے بجٹ کے متعلق تقاریر کی تھیں میں اُن کے نوٹ لیتا گیا تھا اور بعض باتیں اپنی طرف سے لکھتا گیا تھا۔آج میں دوسری کا رروائی شروع کرنے سے پہلے ان باتوں کے متعلق کچھ بیان کر دینا چاہتا ہوں۔بعض باتیں چھوٹی ہوتی ہیں لیکن نتائج کے لحاظ سے بڑی اہم ہوتی ہیں۔میں نے صدر انجمن احمدیہ کی مشکلات کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ بجٹ اخراجات ہمیشہ گزشتہ سال یا اس سے پہلے سال کی آمد سے ۱۰ فیصدی کم رکھا جایا کرے اور اس فیصلہ سے میری غرض یہ تھی کہ اس ذریعہ سے جماعت اپنے پروگرام بڑھانے میں کامیاب ہو سکے گی۔یہ نہیں ہو گا کہ یونہی خرچ ہوتا چلا جائے اور بعد میں ندامت اور پشیمانی حاصل ہو۔کچھ سال تک تو اس پر عمل ہوتا رہا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدر انجمن احمدیہ نے آٹھ لاکھ روپیہ بطور ریز روفنڈ جمع کر لیا لیکن ۱۹۴۷ء کے ہنگامے میں یہ قاعدہ ٹوٹ گیا اور شاید مجھ سے بھی اجازت طلب کر لی گئی تھی کہ مشکلات کی وجہ سے اس قاعدہ پر عمل نہیں ہوسکتا کیونکہ آمد کو سخت صدمہ پہنچا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ اخراجات بے انتہاء بڑھنے شروع ہوئے۔آپس میں رسہ کشیاں شروع ہوئیں اور بجٹ اخراجات کو آمد سے بڑھا دیا گیا۔اگر نتائج بھی بڑھتے تو ہمیں کوئی پریشانی نہ ہوتی مگر آمد کم رہی اور اخراجات بڑھتے چلے گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اخراجات میں اتنی زیادتی ہو گئی کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا۔اگر کچھ دیر پہلے اس حالت کا پتہ لگ جاتا تو ہم سنبھل جاتے اور دیکھنے سے معلوم ہو جاتا کہ کس کس جگہ زیادتی ہوئی ہے۔آیا عملہ میں زیادتی ہوئی ہے یا سائر میں زیادتی ہوئی ہے۔اگر عملہ میں زیادتی ہوئی ہے تو عملہ میں مناسب کمی کی جاتی اور اگر سائر میں زیادتی ہوئی ہے تو سائز میں مناسب کمی کی جاتی اور آہستہ آہستہ بجٹ اعتدال پر آ جاتا۔کارکنوں کی تنخواہیں کل کہا گیا تھا کہ اگر کارکنوں کی تنخواہیں زیادہ ہوں تو وہ کام اچھا کریں گے۔حقیقت یہ ہے کہ یہاں کارکنوں کی تنخواہیں قادیان سے بہت زیادہ ہیں لیکن مجھے کوئی ایسا کارکن نظر نہیں آتا جو خوش ہو۔جتنی جتنی تنخواہ بڑھتی گئی ہے اُتنا اتنا ملال بھی بڑھتا گیا ہے مثلاً صدر انجمن احمد یہ نے گریڈ چار کی بجائے پانچ کر دیا تو ایک کارکن چار کے گریڈ میں جتنا خوش تھا اُتنا ہی وہ اب پانچ کے گریڈ میں ناراض ہے