خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 511

خطابات شوری جلد سوم ۵۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء میں ہوگا کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت حاصل کی ہو اور پھر اس سے استفادہ کیا ہو۔پس یہ بتانا چاہئے کہ صحابہ سے کون سے صحابہ مراد ہیں۔چونکہ اس بات کی پہلے تشریح نہیں کی گئی تھی اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ شوری کے لئے بعض ایسے صحابہ کے نام بھی آگئے جن کے متعلق میں قطعی طور پر یہ سجھتا تھا کہ وہ ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔جب ان پر یہ سوال کیا گیا کہ ان میں سے وہ کون سے صحابہ ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت حاصل ہوئی ہے؟ تو بعض ایسے لوگ بھی نکل آئے جنہیں صُحبت نصیب ہی نہیں ہوئی تھی۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے تین دن تک کاغذات اپنے پاس رکھے کہ تحقیقات ہو رہی ہے حالانکہ بعض معروف صحابہ تھے مثلاً ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب اور ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کو ہم جانتے ہیں لیکن انہیں بھی اسی بناء پر محروم کر دیا گیا کہ ابھی تحقیقات ہو رہی ہے حالانکہ یہ ایسی چیز نہیں تھی جو ہم نہیں کر سکتے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ کے لئے اس بات کا فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ صحابی کی تعریف اس حق کے حاصل کرنے کے لئے کیا ہو گی۔آیا صحابی کی یہ تعریف ہوگی کہ وہ شخص جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کسی حالت میں بھی دیکھا ہو اور اُس زمانہ میں یا بعد میں ایمان لایا ہو۔یا جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھ لیا ہو۔یا اس کی یہ تعریف کی جائے گی کہ اس سے وہ صحابی مراد ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ صرف دیکھا ہو بلکہ آپ کی صحبت بھی حاصل کی ہو اور پھر استفادہ بھی کیا ہو۔دوسری غلطی یہ ہوئی کہ یہ قانون تو بنا دیا گیا کہ ۱۹۰۰ء کے بعد کے صحابہ میں سے پندرہ صحابہ لے لئے جائیں لیکن کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ ان کے انتخاب کی کیا صورت ہو گی اور نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ربوہ کے صحابہ کی فہرست دے دی گئی۔میں نے کہا کیا ربوہ کے صحابہ کو کوئی خاص فوقیت حاصل ہے کہ صرف انہیں حق دے دیا گیا ہے اور باہر کی جماعتوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔میں رات کو اس بات پر غور کر رہا تھا لیکن میرے ذہن میں کوئی صورت نہیں آئی کہ کس طرح سارے صحابہ کا خیال رکھا جائے۔آیا سارے صحابہ کی ایک فہرست بنا لی جائے اور پھر ان میں قرعہ ڈال کر نام منتخب کئے جائیں یا کوئی اور صورت نکالی جائے۔آخر کیا وجہ ہے کہ شوریٰ میں نمائندگی کا حق لاہور، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ اور