خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 499

خطابات شوری جلد سوم ۴۹۹ مشاورت ۱۹۵۲ء کر دیتے ہیں۔یہ جتھا بندی کی روح جب بھی کسی قوم میں ہوگی سارے لوگ اُس کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوں گے لیکن جب نفس پرستی ہوگی اور دل میں احساس ہوگا کہ ہم نے دوسروں کو اپنے قریب نہیں آنے دینا تو ایسے لوگ ہمیشہ قوم کو گرایا کرتے ہیں۔اُسے ترقی نہیں دیا کرتے۔پس مال بڑھانے کا وہ ذریعہ اختیار کرو جس سے قومی رنگ میں تم کو اعزاز حاصل ہو۔تجارت اور صنعت میں ترقی کرنے کے لئے احمدی صناعوں اور تاجروں کی انجمنیں بنا کر ان کے اندر قومی خدمت کا مادہ پیدا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ورنہ ذاتی اور خاندانی ترقی صرف ایک حد تک جاسکتی ہے اس سے آگے نہیں۔یہ امور عامہ کا کام ہے مگر وہ اس سے گلیۂ غافل ہے۔پھر زراعت ہے اس میں بھی بہت سی مشکلات آئی ہیں مگر بہر حال ان پر قابو پالیا زراعت گیا ہے اور ترقی کی امید ہے۔تحریک جدید کا ریز رو فنڈ قائم کرنے کے لئے سندھ میں دس ہزا را یکٹر یا چار سو مربع زمین خریدی گئی ہے جس پر تمیں لاکھ کے قریب خرچ ہوا ہے۔چندوں کے ذریعہ تو صرف دس بارہ لاکھ روپیہ ہی آیا تھا۔دس لاکھ کے قریب قرض لیا گیا اور سات آٹھ لاکھ روپیہ وہ ہے جو ان زمینوں کی آمد سے ہی ادا کیا گیا۔اس زمین کا اکثر حصہ آزاد ہو چکا ہے لیکن ابھی دس لاکھ کے قریب قرض باقی ہے۔اسی طرح صدر انجمن احمدیہ کی زمین وہاں ایک سو دس مربع ہے جو ساری کی ساری آزاد ہو چکی ہے۔سندھ میں تین سو روپیہ فی ایکٹر عام طور پر قیمت سمجھنی چاہئے یہاں تو فی ایکٹر ایک ہزار سے دو ہزار روپیہ تک قیمت ہے۔اگر وہاں بھی کسی وقت یہی قیمت ہو جائے تو دس ہزار ایکٹر کے لحاظ سے تحریک جدید کا ایک کروڑ روپیہ کا ریز رو فنڈ قائم ہو جاتا ہے اور اگر دو ہزار قیمت لگائی جائے تو دو کروڑ روپیہ کا ریز رو فنڈ قائم ہو جاتا ہے۔انجمن کی زمین بھی سندھ سے وہ کی قیمتوں کے لحاظ سے سات آٹھ لاکھ روپیہ کی ہے لیکن ہمارے ملک کے لحاظ۔اس تقریر کے کچھ عرصہ بعد میں نے ناظر اعلیٰ کو توجہ دلائی کہ باوجود میری تقریر کے اُنہوں نے یا امور عامہ نے کچھ نہیں کیا۔تو اُنہوں نے رپورٹ کی کہ ناظر امور عامہ آپ کی تقریر کے چھپنے کے منتظر ہیں۔میں نے جواب دیا کہ اس میں کون سی تفصیلات تھیں کہ اس کے چھپنے کے انتظار کی ضرورت تھی مگر ناظر امور عامہ اس کے بعد بھی غافل ہی رہے۔