خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 498
خطابات شوری جلد سوم ۴۹۸ مشاورت ۱۹۵۲ء شامل تھے ، وہ بڑے ذہین آدمی تھے۔واپس آئے تو اُنہوں نے کہا کہ میں نے اس سفر میں ایک ایسی بات دیکھی ہے جس سے میں بڑا متاثر ہوا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ میں بمبئی میں بڑے بڑے بوہرہ تاجروں سے ملا ہوں۔وہ مذہباً شیعہ ہیں مگر تجارت میں ان کو بڑا غلبہ حاصل ہے۔میں نے ان سے پوچھا کہ تم لوگوں کو جو طاقت حاصل ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اور وہ کون ساگر ہے جو تمہاری اس ترقی کا باعث ہے۔انہوں نے کہا ہم نے اپنی جتھا بندی اس رنگ میں کی ہوئی ہے کہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔مثلاً ہم میں سے ایک شخص کا دیوالہ نکل جائے تو جب ہمیں اُس کا علم ہوتا ہے تو ہم اُسے بلا کر کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں روپیہ تو دے نہیں سکتے لیکن ہم تمہاری مدد بھی کرنا چاہتے ہیں اس لئے آج سے ہم اپنی تمام دیا سلائیاں تمہیں دے دیتے ہیں یا مٹی کا تیل تمہیں دے دیتے ہیں یا صابن تمہیں دے دیتے ہیں۔تم یہ چیز لو اور اس کی تجارت کرو۔جب ہمارے پاس کوئی گاہک آئے گا تو ہم اُسے تمہارے پاس بھجوا دیا کریں گے۔چنانچہ کمیٹی بیٹھتی ہے اور فیصلہ کر دیتی ہے کہ آج سے کسی بوہرے نے دیا سلائی یا صابن یا تیل فروخت نہیں کرنا۔وہ ہول سیل تاجر ہیں ، جب ان کے پاس کوئی شخص مال لینے کے لئے آتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہمارے پاس تو مال ختم ہے لیکن ہم نے سنا ہے کہ فلاں تاجر کے پاس مال موجود ہے آپ اس سے لے لیجئے۔چنانچہ وہ شخص زیادہ گراں قیمت پر مال اس سے خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور چونکہ بڑے بڑے شہروں میں لاکھوں کا مال خریدا جاتا ہے کسی نے پندرہ ہزار کا مال خریدنا ہوتا ہے، کسی نے پچیس ہزار کا اور کسی نے پچاس ہزار کا اِس لئے جب دکانداروں سے پوچھتے ہیں کہ مال ہے تو جواب ملتا ہے کہ مال تو ختم ہے لیکن فلاں تاجر کے پاس مال سنا جاتا ہے۔آپ اس کے پاس چلے جائیے وہ ممکن ہے کچھ مہنگا ہی دے۔کیونکہ مال کسی اور جگہ سے مل نہیں رہا اس پر وہ مجبور ہوکر اس کے پاس آتے ہیں اور سو دا خرید لیتے ہیں۔اس طرح چند دن یا چند ہفتوں میں ہی لاکھ دو لاکھ روپیہ وہ کما لیتا ہے اور اس کے بعد وہ ان کے مال کی قیمت ان کو واپس کر کے باقی روپیہ سے اپنی تجارت شروع کر دیتا ہے۔غرض چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے سگریٹ ہوئے یا دیا سلائی کی ڈبیاں ہوئیں یا جرابیں ہوئیں یا بنیانیں ہوئیں، ان کے ذریعہ سے وہ تھوڑے دنوں میں ہی اُس کے اندر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی طاقت پیدا