خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 500
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۵۲ء پچاس لاکھ روپیہ سے کم نہیں۔پھر کچھ اور جائیداد بھی ہم نے اسی علاقہ میں خریدی ہوئی ہے اور وہ بھی ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی ہے۔میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر اس پر مکان اور دُکانیں بن جائیں تو دو تین ہزار روپیہ ماہوار کی آمد ہو سکتی ہے۔اسی طرح انجمن کی طرف سے گنری میں ایک کارخانہ بھی کھلا ہوا ہے جو پندرہ ہزار کے سرمایہ سے شروع ہوا تھا اب یہ کارخانہ بھی کافی ترقی کر چکا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے تحریک کی زمین پر ابھی آٹھ دس لاکھ قرض ہے جو آہستہ آہستہ ادا ہونے کی صورت اب نظر آ رہی ہے بشرطیکہ بھاؤ نہ گر گئے۔میرا خیال تھا کہ اس سال ہم اڑھائی لاکھ روپیہ ادا کر دیں گے مگر ٹریکٹر خریدنے کی وجہ سے روپیہ اس طرف صرف ہو گیا۔آئندہ سال اگر بھاؤ اچھے رہے تو امید ہے ہم اڑھائی تین لاکھ روپیہ قرض ادا کر سکیں گے۔میری سکیم یہ ہے کہ جب قرض اُترنے کے بعد ایک اچھا ریز روفنڈ قائم ہو جائے تو ہم اس کی آمد کے ایک حصہ سے ہنگامی اخراجات چلایا کریں اور عام طور پر ہنگامی کاموں کے لئے چندہ کو استعمال نہ کیا کریں ، دوسرے حصتہ سے ریز روفنڈ کو بڑھایا جاتا رہے۔بہر حال زراعت میں گو ہمیں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی ایک پنجابی زمیندار کو ہوتی ہے لیکن ایسی کامیابی ضرور ہوئی ہے کہ ہم شرمندگی سے بچ سکتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے حالات نظر آرہے ہیں کہ اگر قیمتیں نہ گریں تو ریز روفنڈ آسانی کے ساتھ قائم ہو جائے گا۔محاسبہ کی ضرورت اب سوال یہ ہے کہ سب نقائص جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے کس طرح دور کئے جائیں؟ اس بارہ میں ہمیں سب سے پہلے اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان نقائص کی وجوہات کیا ہیں؟ میرے نزدیک ان نقائص کی ایک بڑی وجہ عدم محاسبہ ہے۔جماعت کی طرف سے کوئی محاسبہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہمارے اداروں کے کاموں پرشستی اور غفلت چھائی ہوئی ہے۔اگر افسروں سے محاسبہ کیا جائے تو یہ نقائص بہت جلد دور ہو سکتے ہیں۔ان کی سستی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور جب قوم میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو افسروں کے اندر سُستی کا احساس ترقی کر جاتا ہے۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ صدر انجمن احمد یہ کے پاس افسر کوئی نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جس قسم کے افسر ہماری انجمن میں کام کر رہے ہیں ان پر