خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 493
خطابات شوری جلد سوم ۴۹۳ مشاورت ۱۹۵۲ء ہے۔موجود ہیں مگر یہ نہیں ہو سکا کہ ان پر نظر ثانی کروا کے ان کو شائع کروایا جا تا۔حالانکہ تراجم سات سال سے ہو چکے ہیں۔یہ کتنا عظیم الشان کام تھا جو دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکتا تھا مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی۔ہم نے سات زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کروائے تھے۔اگر دو تین زبانوں کے تراجم ہی شائع کروا دیئے جاتے تو ان کی آمد سے پھر باقی ترجمے شائع کئے جاسکتے تھے۔اسی طرح اور لٹریچر شائع کیا جاسکتا تھا مگر چونکہ تصنیف کے متعلق بھی کوئی سکیم نہیں سوچی گئی اس لئے یہ عظیم الشان کام بھی لوگوں کی نگاہوں سے مخفی پڑا۔محکمہ صرف اتنا کام جانتا ہے کہ مختلف مبلغین کی رپورٹوں کے خلاصے تیار کر کے مجھے بھجوا دیتا ہے کہ خلاصہ رپورٹ امریکن مشن ، خلاصہ رپورٹ نائیجیریا مشن ، خلاصہ رپورٹ لنڈن مشن حالانکہ پہلے ان رپورٹوں کو میں خود پڑھ چکا ہوتا ہوں۔اس طرح مجھے دو دفعہ وہ رپورٹیں پڑھنی پڑتی ہیں میرے نزدیک اس میں اصلاح کی یہ صورت ہے کہ کمیٹی غور کر کے ایک نائب وکیل التصنیف کا عہدہ قائم کرے تا کہ یہ کام کسی سکیم کے ماتحت آ سکیں۔تحریک جدید کے بجٹ کے متعلق اسی سلسلہ میں میں تحریک کے بجٹ کی نسبت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں امریکہ اور انگلستان کی مدد بند کر کے سخت ظلم کیا گیا ہے۔امریکہ میں اس وقت ساڑھے چار سو احمدی ہے۔اگر ہم ان کی ذرا بھی مدد کریں تو اس چار سو کا آٹھ سو یا ہزار بن جانا کوئی قابل تعجب بات نہیں لیکن اس وقت امداد بند کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ہم اس ملک میں اپنی تبلیغ کو بند کر دیں۔مفتی صاحب جب امریکہ گئے ہیں تو خواجہ صاحب کے طریق کے مطابق ان کی بھی عادت تھی کہ حُسنِ ظنی سے کام لیتے اور جو شخص بھی کہتا کہ احمدیت تو بڑی اچھی تحریک ہے تو اُسے کہتے اچھا اس فارم پر دستخط کر دیں۔اس طرح مفتی صاحب نے کئی بیعتیں اپنی سادگی میں ایسی کروالیں جو در حقیقت صرف نمائشی تھیں۔پھر کچھ مفتی صاحب میں دعاؤں کی بھی عادت تھی اس سے بھی لوگ متاثر ہوتے اور وہ احمدیت کو قبول کر لیتے مگر بہر حال کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو صرف نام کے احمدی تھے وہ الگ ہو گئے۔ان کے بعد ڈیڑھ دوسو کے قریب آدمی تھا جو ہمیں ملا۔اب ان کی تعداد ساڑھے چارسو تک پہنچ چکی ہے۔اور زائد خوبی ان میں یہ ہے کہ وہ قربانی کرنے والے ہیں۔بعض ان میں سے اپنی زندگیاں بھی وقف کر چکے ہیں۔