خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 494
خطابات شوری جلد سوم ۴۹۴ مشاورت ۱۹۵۲ء اگر ہم ان کی امداد بند کر دیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ سن رائز بند کر دیا جائے ،مبلغین کے تبلیغی دورے بند کر دیئے جائیں، لٹریچر کی اشاعت بند کر دی جائے اور محض روٹی کھانے کے لئے چار آدمی امریکہ میں بٹھا دئیے جائیں۔اگر ہم نے ان سے تبلیغ کا کام لینا ہے تو پھر ہمیں تبلیغ کا سامان بھی دینا پڑے گا۔اگر ہم سفر خرچ کے لئے انہیں روپیہ نہیں دیتے، اگر ہم اشتہارات کے لئے انہیں روپیہ نہیں دیتے تو ہم سلسلہ کی اشاعت کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔پس میں فنانس کمیٹی کو مشورہ دوں گا کہ وہ مناسب رو پیہ امریکن مشن کے لئے بجٹ میں رکھے اور یہ رقم تین سال میں آہستہ آہستہ ختم کی جائے تا کہ اس عرصہ میں وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کر سکیں۔اسی طرح انگلستان کی مدد بند کر دینا بھی ظلم ہے۔میرے نزدیک انگلینڈ مشن کے لئے مناسب روپیہ بجٹ میں اب بھی رکھنا چاہئے اور اس کو بھی اگلے تین چار سال میں آہستہ آہستہ ختم کرنا چاہئے۔زیادہ ضرورت مرکزی بجٹ کی نگرانی کی ہے مثلاً جامعہ ہے اس میں ضرورت سے زیادہ اساتذہ ہیں اور سلسلہ کا روپیہ بلا وجہ ضائع ہو رہا ہے۔صنعت و حرفت اب تک یہ صیغہ کوئی مفید کام نہیں کر سکا مگر بعض کاموں کی اصلاح ضرور ہوئی ہے اور ریسرچ کا محکمہ لمبی غفلت سے نکل کر اب کچھ ترقی کر رہا ہے اور بعض نوجوان اچھا کام کر رہے ہیں۔گو بعض نوجوان ابھی تک اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں اور ترقی سے غافل ہیں۔صنعت و حرفت کی بھی ایک وکالت ضرور ہے مگر پلاننگ کوئی نہیں کہ کس طرح صنعت میں ترقی کی جاسکتی ہے۔چونکہ یہ اقتصادی ترقی کا کام زیادہ تر نظارت کے سپرد ہے اس لئے میں پھر انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ جماعت کی ریڑھ کی ہڈی زمیندار اور پیشہ ور ہوتے ہیں مگر نظارت نے اس بارہ میں کبھی بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا۔میں نے دیکھا ہے سکھوں نے لوہارے کے کام پر اور ڈرائیوری پر قبضہ کیا ہوا تھا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ دوسری قوموں کے مقابلہ کے خوف سے آزاد ہو گئے تھے لیکن ہماری جماعت کے ہزاروں آدمی بیکار ہیں اور محکمہ کوئی کوشش نہیں کر رہا کہ ان کو لوہارا کام سکھائے یا انہیں معماری کے کام پر لگائے یا انہیں تجاری کے کام پر لگائے۔اگر ایک پیشہ پر بھی ہماری جماعت کا قبضہ ہو جاتا تو ہماری اقتصادی حالت موجودہ حالت سے کئی گنا اچھی ہو جاتی۔