خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 492
خطابات شوری جلد سوم ۴۹۲ مشاورت ۱۹۵۲ء مگر اس وکالت کا بھی صرف اتنا کام ہے کہ رپورٹ آ جاتی ہے کہ فلاں پانچ روپے جو نہیں ملتے اُن کے متعلق تحقیق ہو رہی ہے، فلاں چار آنے کی رقم کی تحقیق ہو رہی ہے دو سال اس محکمہ کو قائم ہوئے ہو گئے مگر ابھی تک بیرونی ممالک کی کانسٹی ٹیوشن نہیں بن سکی۔بیرونی جماعتیں اس وقت تک صرف اخلاص سے چلی جارہی ہیں۔ورنہ حقیقتا اگر اخلاص نہ ہوتا تو وہ مرتد ہو جاتیں۔یہ محکمہ بھی ایک پوسٹ آفس ہے کہ چٹھیاں آتی ہیں اور اُن کا جواب چلا جاتا ہے۔اس نصیحت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ سات ماہ پہلے کبھی کبھی اس کام کے بارہ میں رپورٹ آجاتی تھی ، اب وکالت اعلیٰ ایسی کوئی رپورٹ ہی نہیں ارسال کرتی ) وكالتِ تعلیم: اس محکمہ میں بہت کچھ اسراف ہو رہا ہے۔چالیس پچاس طالب علم ہیں اور گیارہ بارہ استاد ہیں۔جس آدمی کو کوئی کام نہیں ملتا اسے اس محکمہ میں بھرتی کر لیا جاتا ہے اور پھر تعلیم میں منصوبہ بندی بھی نہیں۔علماء بھی اپنا علم نہیں بڑھا رہے اور نہ لڑکوں کی صحیح راہنمائی کر رہے ہیں۔تصنیف کی طرف ان کی بہت ہی کم توجہ ہے حالانکہ اس محکمہ میں بڑے خرچ کے بعد چار پانچ نوجوانوں کو مختلف علوم کی انتہائی تعلیم دلوائی گئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ ذرا بھی توجہ کریں اور اپنے مطالعہ کو وسیع کریں تو یقیناً اپنے فن میں وہ چوٹی کے علماء بن سکتے ہیں اور جماعت کو بہت کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں مگر افسوس ہے کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں کی جارہی ہے۔وکالت تبشیر : وکیل نوجوان ہیں لیکن ابھی تک منصوبہ بندی نہیں کر سکے۔تبلیغ وسیع ہو رہی ہے مگر صرف مقامی مبلغوں کی وجہ سے۔صیغہ نہ اُن کو مدد دے رہا ہے اور نہ اُن کی راہنمائی کر رہا ہے۔بے انتہاء اصلاح کی ضرورت ہے۔مرکزی نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے۔بیرونجات میں تبلیغی سکولوں کی بنیاد رکھنی چاہئے۔لٹریچر کو صحیح بنیادوں پر شائع کرنا چاہئے اور جو اعتراضات اور وساوس لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اُن کو مدنظر رکھنا چاہئے۔یہ بہت بڑا کام ہے جو خالی پڑا ہے۔اسی سلسلہ میں ان کی تصنیف کا خانہ بالکل خالی ہے۔حالانکہ جیسے صدر انجمن احمدیہ میں ایک تصنیف و اشاعت کا محکمہ ہے اسی طرح تحریک میں بھی تصنیف و اشاعت کا الگ محکمہ ہونا چاہئے۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ دو لاکھ روپیہ تراجم قرآن کے لئے رکھا گیا تھا وہ روپیہ بھی موجود ہے اور ترجمے بھی