خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 485

خطابات شوری جلد سوم ۴۸۵ مشاورت ۱۹۵۲ء اور سمجھو۔اُنہوں نے کہا ہم تو جلدی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا میں تو اسی طرح پڑھا سکتا ہوں اگر پڑھنا نہیں چاہتے تو اسی طرح واپس چلے جاؤ۔پھر میں نے اُن سے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ علم ہمیشہ کان کے ذریعہ آتا ہے اور جب تم ہماری باتوں کو سمجھتے ہی نہیں تو تم ہم سے سیکھو گے کیا ؟ پس اگر تم کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو میری شرط یہ ہے کہ پہلے چھ مہینے تک اردو پڑھو۔چنانچہ اُن کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور اُنہوں نے پہلے اردو سیکھی اور پھر دینیات کی تعلیم حاصل کی۔چنانچہ انہی لڑکوں میں سے ایک مولوی فاضل ہے اور ہالینڈ میں ہمارا مبلغ ہے۔اس کے بعد اور لڑ کے آئے اور اُنہوں نے تعلیم حاصل کی اور اس طرح انڈونیشیا میں ہماری تبلیغ کا آغاز ہو گیا۔تو ہر کام ایک سکیم کا متقاضی ہوتا ہے۔جب تک کوئی معتین سکیم سامنے نہ ہو اس وقت تک انسان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔میں نے مختلف نظارتیں اس غرض کے ماتحت قائم کی تھیں کہ وہ ایک پروگرام کے مطابق جماعت کی ترقی میں حصہ لیں مگر جہاں تک ان کے کام کا تعلق ہے انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا اور نہ جماعت نے کبھی ان سے دریافت کیا ہے کہ تمہیں قائم کس غرض کے لئے کیا گیا تھا اور تم نے وہ کام کیوں نہیں کیا۔امور عامہ کے فرائض مثلاً امور عامہ کو لے لو۔امور عامہ والوں نے کبھی بھی لوگوں کو نہیں بتایا کہ اس محکمہ کو کیوں قائم کیا گیا تھا اور نہ جماعت نے کبھی محاسبہ کیا کہ یہ محکمہ کیا کام کر رہا ہے۔امور عامہ کا کام محض اس وقت پوسٹ آفس کا ہے۔چٹھیاں آتی ہیں اور ان کا جواب چلا جاتا ہے۔صرف دو کام ایسے ہیں جو امور عامہ اس وقت کر رہا ہے۔ایک تنفیذ کا کام اور دوسرے رشتہ ناطہ کا کام مگر یہ دونوں کام کرنے والے محض کلرک ہیں ، نہ ناظر کا ان سے کوئی تعلق ہے اور نہ نائب ناظر کا۔اگر ان عہد وں کو اُڑا بھی دیا جائے تو کام اسی طرح چلتا چلا جائے جس طرح اب چل رہا ہے۔حالانکہ امور عامہ کے سپر د جو کام کئے گئے تھے وہ یہ تھے۔اوّل۔جماعت کی تنظیم۔مگر کیا امور عامہ والے بتا سکتے ہیں کہ جماعت کی تنظیم کے لئے پچھلے ۳۳ سال میں اُنہوں نے کچھ بھی کام کیا ہے؟ دوم۔نو جوانوں کو کام پر لگانا۔یہ کام بھی امور عامہ نے کبھی نہیں کیا۔اتفاقی حادثہ کے طور پر