خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 484
خطابات شوری جلد سوم ۴۸۴ مشاورت ۱۹۵۲ء دس یا پندرہ مضامین ان مسائل کے متعلق شائع کرائیں گے اور اس طرح ۱۲۰ یا ۱۲۵ آرٹیکل مختلف اخبارات میں شائع کروائیں گے۔یا ہم نے فلاں مشنری کا لج کھولا ہے اور اس میں ئو مسلموں کو داخل کر دیتے ہیں۔جب وہ اسلامی تعلیم سے واقف ہو جاتے ہیں تو انہیں اپنے اپنے حلقوں میں کام کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے۔اگر اس طرح کسی معتین سکیم کے مطابق جواب دیا جائے تو دوسرا بھی سمجھ جاتا ہے کہ یہ لوگ کسی مقصد کے ماتحت کام کر رہے ہیں ورنہ وہ خیال کرتا ہے کہ یہ پاگل لوگ ہیں جو بغیر کسی سکیم کے کام کرنے کے لئے آگئے ہیں۔پھر ہر ملک کی تبلیغ کے الگ الگ طریق اور الگ الگ ذرائع ہیں۔جب تک ان ذرائع سے کام نہ لیا جائے اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔میں نے دیکھا ہے جہاں بھی ہمارے مبلغوں نے ہوشیاری کے ساتھ کام کیا ہے ان کی کوششوں کے نہایت شاندار نتائج نکلے ہیں۔مثلاً انڈونیشیا میں ہی جماعت کے افراد میں خاص طور پر بیداری کے آثار نظر آتے ہیں۔اس سال ان کی طرف سے عام چندوں کا بجٹ ایک لاکھ اسی ہزار روپیہ کا آچکا ہے اور اب اُنہوں نے اطلاع دی ہے کہ تحریک جدید کے وعدے اسی ہزار کے ہو چکے ہیں۔گویا ۲ لاکھ ۶۰ ہزار تک ان کا بجٹ پہنچ چکا ہے۔ویسٹ افریقہ کے تینوں ممالک کے چندے بھی سال میں پونے دولاکھ روپے کے قریب ہوئے ہیں۔انڈونیشیا میں احمدیت کا آغاز انڈونیشیا کی تبلیغ بھی ابتداء میں اتفاقی طور پر شروع ہوئی ہے۔اس ملک کے چار پانچ طالب علم لاہور میں آئے اور اُنہوں نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔کچھ عرصہ کے بعد وہ تعلیم سے بالکل اُچاٹ ہو گئے اور میرے پاس آئے۔کہنے لگے ہم تعلیم کے لئے آئے تھے مگر ہمارا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔میں نے کہا کیا اُنہوں نے آپ لوگوں کے لئے کوئی مدرس نہیں رکھا تھا ؟ کہنے لگے مدرس تو رکھا تھا۔میں نے کہا تو کھانے کے لئے نہیں دیتے تھے؟ کہنے لگے کھانے کے لئے بھی دیتے تھے۔میں نے کہا تو پھر تمہیں اور کیا چاہئے تھا؟ تمہیں سب کچھ مل رہا تھا اگر اس کے باوجود تم تعلیم حاصل نہیں کر سکے تو معلوم ہوتا ہے کوئی اور نقص تھا۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ میں تمہاری تعلیم کا تو انتظام کر سکتا ہوں مگر ایک شرط ہو گی اور وہ یہ کہ چھ مہینے تک تم نے کوئی دینی تعلیم نہیں سیکھنی تم صرف اردو پڑھو