خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 486
خطابات شوری جلد سوم ۴۸۶ مشاورت ۱۹۵۲ء کچھ نو جوان کام پر لگ گئے ہوں تو اور بات ہے ورنہ دفتر نے یہ کبھی کوشش نہیں کی کہ منتظم طریق پر نو جوانوں کو مختلف کاموں پر لگائے اور اُنہیں سلسلہ کے لئے مفید وجود بنائے۔سوم۔ناظر تعلیم اور افسران تعلیم سے مل کر نو جوانوں کو مختلف شعبوں کے لئے تیار کرنا یہ کام بھی امور عامہ نے کبھی نہیں کیا۔چہارم۔تمام ہنگامی کاموں کی نگرانی کرنا۔یہ کام صرف میرے ہاتھوں سے ہو رہا ہے۔امور عامہ نے اس بارہ میں بھی اپنے فرض کو کبھی نہیں پہچانا۔پنجم۔دشمنانِ سلسلہ کا سیاسی مقابلہ۔یہ کام بھی امور عامہ نے کبھی نہیں کیا۔ششم۔جماعت کی اقتصادی ترقی کے لئے سکیمیں بنانا۔اس بارہ میں بھی ہر محکمہ اپنے فرائض سے سراسر غافل ہے۔ہفتم۔رشتوں ناطوں کا انتظام۔ہشتم۔تنفیذ یہ آخری دو کام ایسے ہیں جو کسی قدر ہو رہے ہیں مگر وہ بھی کلرکوں کی وجہ سے ، ناظر اور نائب ناظر کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔نہم۔اخلاق سے گرنے والے عصر کی نگرانی یا اخراج وغیرہ۔یہ کام صرف اس حد تک ہوتا ہے کہ جماعتوں کی طرف سے جب اطلاعات آ جاتی ہیں تو امور عامہ مناسب کارروائی کے لئے چند چٹھیاں لکھ دیتا ہے ورنہ کوئی خاص پروگرام اس کے مدنظر نہیں ، حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ اس محکمہ کا پروگرام زیادہ سے زیادہ تفصیلی ہوتا۔غرض وہ کام جو امور عامہ کے سپرد کئے گئے تھے ان میں سے دو کاموں کے سوا جن کے لئے الگ آدمی مقرر ہیں کوئی کام بھی امور عامہ نہیں کر رہا اور وہ دونوں کام کلرک کرتے ہیں۔پس امور عامہ گویا ان دو کلرکوں کے کام کا نام ہے، ناظر اور نائب ناظر محض زیب مجلس ہیں۔جماعت کی اقتصادی حالت کی درستی کے لئے اُنہوں نے کب کچھ کیا ہے۔زمینداروں سے اُنہوں نے کب تعلق پیدا کیا ہے یا کب اس بارہ میں اُن سے مشورہ کیا ہے یا کب اس سے متعلقہ امور کے احمدیوں سے مشورے کئے ہیں۔تجارت وصنعت کی ترقی کے متعلق کب مشورہ کیا ہے، کب کوئی تحریک جماعت میں کی ہے۔اگر آج آپ لوگ