خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 455

خطابات شوری جلد سوم ۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء قانونِ قدرت کے اہل ہونے سے دعا کی ضرورت یا معجزہ کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔پس ہماری جماعت کو دعاؤں کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔محض رسمی طور پر دعا مانگنا بے معنی ہے۔ضروری ہے کہ دعا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگی جائے۔دُعاؤں کی اہمیت کو قائم کرنا ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے کیونکہ ہمارا سلسله دیگر آسمانی سلسلوں کی طرح خدا تعالیٰ کی تقدیر خاص کے نتیجے میں قائم ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر عام اور تقدیر خاص میں بہت فرق ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ بعض اوقات زمین میں بغیر کسی اہتمام کے بیج بکھیر دیئے جاتے ہیں اور وہ کچھ عرصہ بعد خود بخود اُگ آتے ہیں لیکن باغ وغیرہ لگانے میں بڑی مشقت اٹھائی جاتی ہے اور قدم قدم پر خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔چنانچہ اس مشقت اور اہتمام کا نتیجہ اول الذکر کی نسبت زیادہ نمایاں اور شاندار طریق پر ظاہر ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں تقدیر عام کا پہلو بھی دعا سے خالی نہیں ہے تو پھر تقدیر خاص میں اس کی اہمیت اور ضرورت کیوں نہ مسلم ہو۔وہ جماعت جو قائم ہی تقدیر خاص کے نتیجے میں ہوئی ہو اُس پر خدا تعالیٰ کی خاص نظر ہوتی ہے۔اُس کی دعا رائیگاں نہیں جاتی وہ ضرور رنگ لاتی ہے۔اُس کے افراد دعا ہی وہ مانگتے ہیں جو خدا تعالیٰ اُن سے منگوانا چاہتا ہے۔گویا خدائی تقدیر اور بندوں کی دلی خواہش مل جاتی ہے اسی کا نام قبولیت ہے۔دعا کی قبولیت کا وقت وہی ہوتا ہے کہ جب خدا کے فضل کی بارش اور بندوں کے آنسوؤں کا پانی آپس میں مل جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات سینکڑوں گھنٹوں کے آنسو وہ کام نہیں کرتے جو آنِ واحد میں دل سے نکلی ہوئی دعا کر جاتی ہے۔“ اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت لمبی دعا کی اور پھر فرمایا : - بجٹ بر وقت تیار ہو بجٹ بہر صورت میعاد مقررہ کے اندر اندر تیار ہو جانا چاہئے۔اس سال بھی بجٹ وقت پر شائع نہ ہو سکنے کی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن جب تک ان وجوہات پر قابو نہیں پایا جائے گا اُس وقت تک بجٹ میعاد مقررہ کے اندر کبھی شائع نہیں ہو سکے گا۔کوشش کی جائے کہ آئندہ ایسی وجوہات پیدا نہ ہوں کہ جن کے نتیجہ میں پھر ایسی شکایت سے دوچار ہونا پڑے۔“