خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 454

خطابات شوری جلد سوم ۴۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء صحابہ کرام کی نمائندگی کے سلسلے میں کوئی خاص قاعدہ مقرر نہیں ہے۔جس کی وجہ سے محکموں کے نمائندوں کی تعداد غیر ضروری طور پر بڑھتی جا رہی ہے۔اس طرح صحابہ کی نمائندگی کا کوئی خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے۔“ اس ضمن میں حضور نے انگلستان اور امریکہ کے آئین پر علیحدہ علیحدہ روشنی ڈال کر واضح کیا کہ وہاں ایگزیکٹو کی نمائندگی کی نوعیت کیا ہے۔حضور نے مزید فرمایا کہ:- نظارت بیت المال کی تجاویز پر غور و خوض کے لئے جو سب کمیٹی مقرر کی جائے گی وہ صدر انجمن اور تحریک جدید کے بجٹوں کے علاوہ اس تجویز پر بھی غور کرے گی۔“ دوسرا دن مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء کے دوسرے دن ۲۴ مارچ کو پہلے اجلاس سے قبل تلاوت قرآن مجید کے بعد حضور نے بیٹھ کر ہی نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: - دعا کی ضرورت اصل کا رروائی شروع کرنے سے پہلے احباب دعا فرما لیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض دوست دعا کی اہمیت کو وہ درجہ نہیں دیتے جو دراصل انہیں دینا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ روحانی سلسلے خدائی نصرت کے ساتھ ہی چلتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ان کو بھی دُنیوی سامانوں سے کام لینا پڑتا ہے اور اسباب و علل کی قیود سے وہ بھی آزاد نہیں ہوتے لیکن وہ تمام دنیوی سامان اور وہ اسباب و علل خدائی منشاء اور اُس کے فضل کے ماتحت ظاہر ہو کر الہی جماعتوں کی کامیابی کا موجب بنتے ہیں۔بسا اوقات دنیا کے بندے ظاہری سامانوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے نصرت طلب کرنے کو خاطر میں نہیں لاتے۔مذہب اسباب و علل سے متعلق قوانین قدرت کے اہل ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے لوگوں سے کہتا ہے کہ یہ سامان جن پر تم بھروسہ کرتے ہو اور یہ اسباب و علل جن کی طرف رہ رہ کر تمہاری نگاہیں اُٹھتی ہیں خود خدا تعالیٰ کے ہی پیدا کردہ ہیں ان سے صحیح رنگ میں فائدہ اُٹھانے کے لئے اُس سے استمداد ضروری ہے۔خدائی نصرت کے تحت سامانوں کا مہیا ہو جانا اور پھر اُن سے صحیح رنگ میں فائدہ اُٹھانے کی توفیق ملنا ہی معجزہ کہلاتا ہے۔