خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 456

خطابات شوری جلد سوم ۴۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء گزشتہ سیلابوں کے باعث چندوں میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ:- آئندہ بجٹ میں شہری اور دیہاتی جماعتوں کی آمدن علیحدہ علیحدہ دکھائی جایا کرے تا کہ اندازہ ہو سکے کہ کن جماعتوں کی طرف سے وصولی کم ہوئی ہے اور اس کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں۔موجودہ بجٹ سے یہ پتہ نہیں لگ سکتا کہ سیلاب کے باعث دیہاتی جماعتوں کی طرف سے خاطر خواہ وصولی نہیں ہو سکی۔حضور نے بجٹ میں قرضہ جات وغیرہ کی صحیح پوزیشن دکھانے کی اس سال بھی ہدایت فرمائی اور پھر فرمایا : - تألیف و تصنیف کی اہمیت تالیف و تصنیف کا محکمہ سب سے اہم ہے لیکن صدر انجمن میں یہی محکمہ سب سے کمزور ہے۔اگر دیکھا جائے تو وو لوگوں تک اپنے خیالات پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ تصنیف ہی ہے۔ایک تبلیغی جماعت جس کا کام ہی دوسروں کو حق کی طرف بلانا ہو تالیف و تصنیف کی اہمیت کو کسی طرح نظر انداز نہیں کر سکتی۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ”سلطان القلم قرار دیا ہے۔اس خدائی اعزاز میں ہمارے لئے غور طلب بات یہ ہے کہ کیا کوئی بادشاہ بغیر رعایا کے بھی ہوتا ہے؟ سلطان القلم کا مطلب تو یہ ہونا چاہئے کہ ہماری جماعت میں کثرت سے اہل قلم ہوں جو اپنی تصانیف کے ذریعہ عملاً اس بات کا اعلان کرتے رہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام " سلطان القلم ہیں۔اس خدائی اعزاز میں ایک بہت بڑا اشارہ تھا جسے جماعت کے افراد نے نہیں سمجھا۔وہ اشارہ یہ تھا کہ مسیح محمدی کی جماعت کو تصنیف کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔“ اس ضمن میں حضور نے جماعت کے اہل علم طبقہ کو بالعموم اور پروفیسر صاحبان و علماء سلسلہ کو بالخصوص تألیف و تصنیف سے متعلق اس سکیم پر عمل پیرا ہونے کی ایک بار پھر تلقین فرمائی وحضور نے ۱۹۴۹ء کے سالانہ جلسہ منعقدہ ربوہ میں نہایت تفصیل سے بیان کی تھی۔اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے میں اب تک جو غفلت برتی گئی ہے اُس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: - جب تک جماعت اس طرف توجہ نہیں کرے گی اُس وقت تک حقیقی اسلام