خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 453
خطابات شوری جلد سو ۴۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء منعقد ه ۲۳ تا ۲۵ / مارچ ۱۹۵۱ء) پہلا دن جماعت احمدیہ کی بتیسویں مجلس مشاورت ربوہ میں ۲۳ تا ۲۵ مارچ ۱۹۵۱ء کو جامعۃ المبشرین کی عارضی عمارت کے صحن میں شامیانے کے نیچے منعقد ہوئی۔( یعنی وہ جگہ جہاں دارالصدر غربی میں اب بیت قمر ہے ) حضور کی طبیعت در دنقرس کی وجہ سے علیل تھی۔تلاوت قرآن مجید کے بعد حضور نے بیٹھ کر دُعا سے متعلق فرمایا: - کارروائی شروع کرنے سے قبل احباب مل کر دعا کر لیں۔خدا تعالیٰ ہماری راہنمائی فرمائے تا کہ ہم مشورہ طلب امور کے بارے میں ایسے فیصلے کرسکیں کہ جو اسلام کی سر بلندی کا باعث ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہوں۔خدا تعالیٰ ہم کو اور ان لوگوں کو جن کے ہم نمائندے ہیں ان سب فیصلوں پر کما حقہ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہم ان فیصلوں کو عملی جامہ پہنا کر صحیح معنوں میں سلسلے کی خدمت بجالا سکیں۔“ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- افتتاحی تقریر اس وقت ایجنڈے کے مطابق جماعت کے سامنے دو محکموں کی تجاویز پیش ہیں۔ان میں سے ایک نظارت بیت المال ہے اور دوسری نظارت بہشتی مقبرہ۔ان تجاویز کے علاوہ انتخاب نمائندگان کے متعلق بھی ایک تجویز ہے جو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کی طرف سے ہے۔اس تجویز کا مقصد یہ ہے کہ صدر انجمن، تحریک جدید اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی کے لئے کیا طریق اختیار کیا جائے۔اس وقت تک محکموں کی نمائندگی اور