خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 449

خطابات شوری جلد سوم ۴۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء (۱۹۴۹ء میں ) ہمارا یہ اندازہ تھا کہ ۳۵ ہزار مہمان آئے گا اور تین دن کے قیام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا اُن پر پچپن ہزار روپیہ خرچ ہو گا لیکن ۳۵ ہزار مہمان نہیں آیا۔مہمانوں کی ایک دن زیادہ سے زیادہ تعداد ۲۴۵۰۵ رہی ہے باقی دنوں میں اس سے بھی کم مہمان آئے لیکن خرچ ۵۵ ہزار کی بجائے ۶۵ ہزار روپے ہوا۔میں نے صدر انجمن احمد یہ سے اس بارہ میں جھگڑا شروع کیا ہوا ہے اور میں نے کہا ہے کہ آئندہ کے لئے ایسا طریق اختیار کرو جس سے روپیہ ضائع نہ ہو۔پس اگر گرفت ہوسکتی ہے تو ان رستوں سے۔یہ نہیں کہ مہمان آجا ئیں تو انہیں کھانا نہ کھلایا جائے۔بہر حال اصل سوال ساٹھ ہزار کا نہیں بلکہ اُس کے صحیح خرچ کا سوال ہے جو یہاں پیش نہیں ہو سکتا اس کی تحقیق محاسبہ کمیٹی یا کوئی کمیشن ہی کرسکتا ہے۔بجٹ آمد کی منظوری اب میں دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ آیا صدر انجمن احمدیہ کی آمد کا بجٹ جو سب کمیٹی نے پیش کیا ہے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے۔حضور کے اس استفسار پر ۳۷۳ دوستوں نے یہ رائے پیش کی کہ بجٹ آمد کو منظور فرمایا جائے۔چنانچہ حضور نے بجٹ آمد کی منظوری کا اعلان فرمایا۔بجٹ اخراجات پیش ہونے سے قبل حضور نے فرمایا : - بجٹ اخراجات اب اخراجات کا بجٹ پیش ہوگا دوستوں کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہئیے کہ اُنہیں لمبی بحثوں کی بجائے اخراجات پر صرف اس رنگ میں تنقید کرنی چاہئیے کہ ہمارے نزد یک فلاں اخراجات میں کمی کر دی جائے یا اتنی رقم فلاں مد میں سے کاٹ دی جائے اب 66 صرف ہیں منٹ باقی رہ گئے ہیں اس لئے لمبی بحث کا یہ وقت نہیں۔“ صدر صاحب سب کمیٹی کی طرف سے بجٹ جبکہ پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج کی طرف سے اضافہ بجٹ کے متعلق بعض ترامیم پیش ہونے پر حضور نے فرمایا: - عجیب بات ہے کہ یہ ساری ترمیمیں نظارت کی تصدیق کے ساتھ آئی ہیں حالانکہ اس وقت ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں جس سے ہم یہ سوچ سکیں کہ یہ آمد کہاں سے آئے گی۔پس پیشتر اس کے کہ یہ ترمیمات دوستوں کے سامنے پیش کی جائیں میں ناظر صاحب اعلیٰ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آمد میں یہ چالیس ہزار روپیہ کی زیادتی کس طرح ہوگی اور