خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 448
خطابات شوری جلد سوم ۴۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء دلائل بھی دے سکتے تھے مگر اُنہوں نے نہ اخراجات کو کم کرنے کی کوئی تجویز بیان کی ہے اور نہ اخراجات کو بڑھانے کی کوئی تجویز بیان کی ہے صرف تقریر کی ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اور پھر انہوں نے اپنی تقریر میں باتیں بھی ایسی کی ہیں جو کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔مثلاً اُنہوں نے مجلس مشاورت کی رپورٹ شائع کرنے کے اخراجات کی ضرورت بیان کی ہے حالانکہ یہ خرچ بجٹ میں موجود ہے اور اس کے پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اسی طرح جلسہ سالانہ کے اخراجات کا انہوں نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ساٹھ ہزار خرچ بہت زیادہ ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جلسہ سالانہ کے اعلان کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی اعلان کر دینا چاہئیے کہ اس سال صرف اتنے مہمان آئیں زیادہ نہ آئیں ورنہ انہیں کھانا نہیں کھلایا جائے گا۔یہ امر کہ ہمارے چندہ جلسہ سالانہ کی آمد کم ہے لوگوں کے احساس کی کمی کا نتیجہ ہے ورنہ جماعت بڑی آسانی سے اس رقم کو پورا کر سکتی ہے۔جب حفاظت مرکز کے لئے چندے کا اعلان کیا گیا اور وعدے آئے تو وہ تیرہ لاکھ کے قریب تھے اور یہ وعدے ہر شخص کی ماہوار آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے لے گئے تھے اگر ہم اس کا دس فیصدی حصہ نکالیں تو ایک لاکھ تیس ہزار روپیہ جلسہ سالانہ کے چندہ کے طور پر آنا چاہئیے۔اور اگر تیرہ لاکھ میں وہ وعدے بھی شامل کر لئے جائیں جن کے متعلق ہمارا خیال تھا کہ آنے چاہئیں مگر وہ نہیں آئے تو چندہ جلسہ سالانہ کی متوقع آمد ایک لاکھ تیس ہزار کی بجائے ایک لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچ جاتی ہے لیکن اگر ہماری آمد صرف چالیس ہزار روپیہ ہے اور بجٹ میں ساٹھ ہزار لکھی جاتی ہے اس امید کے ماتحت کہ دوست اپنے فرائض کو سمجھیں گے تو درحقیقت یہ ساٹھ ہزار کی رقم دوستوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ہوتی ہے کہ انہوں نے اتنی معمولی رقم کو بھی اب تک پورا نہیں کیا۔لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ مہمان کم بلائے جائیں یا مہمان تو آئیں مگر اُن کے لئے روپیہ خرچ نہ کیا جائے۔حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ساٹھ ہزار کی رقم بھی غلط ہے اگر لاکھ مہمان آئیں گے تو یہ ساٹھ ہزار دو لاکھ بن جائے گا اور ہمیں بہر حال ان اخراجات کو پورا کرنا پڑے گا۔پس یہ چیزیں ایسی نہیں جن پر بحث کی جائے یا جن میں کسی کمی کی اُمید کی جاسکے۔اگر اخراجات کم کئے جاسکتے ہیں تو بعض اور مدات میں ان میں نہیں۔مثلاً اس سال