خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 450

خطابات شوری جلد سوم ۴۵۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اتنا روپیہ وہ کہاں سے لائیں گے؟ پہلے وہ اس کے متعلق اطمینان دلا دیں اس کے بعد وہ 66 اس سوال کو پیش کر سکتے ہیں۔“ حضور کے اس ارشاد پر مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس قائم مقام ناظر اعلی کھڑے ہوئے مگر وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔حضور نے فرمایا :- چونکہ یہ تجویز میں انجمن کی طرف سے پیش ہیں اور یہ قطعی طور پر بے ضابطگی ہے کہ وہ ایک طرف آمد کم دکھاتی ہے اور دوسری طرف اس قسم کی تجاویز پیش کر دیتی ہے کہ خرچ میں اتنی زیادتی کر دی جائے اس لئے ان ترمیموں کے پیش کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ صدرانجمن احمد یہ اگر چاہے تو اپنے موجودہ بجٹ میں کسی دوسری جگہ سے تخفیف کر کے یہ خرچ نکال لے۔بہر حال میں یہ معاملہ دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں جو دوست چاہتے ہوں کہ انجمن کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ اپنی مخصوص مدات میں نہیں بلکہ عمومی اخراجات میں تخفیف کر کے اگر یہ خرچ نکالنا چاہے تو نکال لے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۱۵۳ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا: - اب جو دوست یہ چاہتے ہوں کہ انجمن کو اپنے عمومی اخراجات میں تخفیف کر کے بھی 66 یہ خرچ نکالنے کی اجازت نہ دی جائے ، وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۸۳ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا : - اب اگر کوئی دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ بہر حال یہ اخراجات بڑھانے کی اجازت دی جائے خواہ روپیہ ہو یا نہ ہو وہ کھڑے ہو جائیں۔“ صرف ۲ دوست کھڑے ہوئے۔آراء شماری کے بعد حضور نے فرمایا :- در حقیقت یہ بہت بڑی بے ضابطگی ہے جس کا اس وقت مظاہر ہ کیا گیا ہے سٹینڈنگ کمیٹی بن جائے گی تو پھر اس قسم کی بے ضابطگیاں نہیں ہو سکیں گی۔حقیقت یہ ہے کہ بعض اخراجات تو ناگزیر ہوتے ہیں۔مثلاً لائبریری ہے اس کے لئے الماریوں کی لازماً ضرورت ہو گی۔مگر بعض اخراجات عقلاً ناجائز ہوتے ہیں جیسے توسیع ہوسٹل کے لئے ہیں ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا گیا ہے حالانکہ لاہور میں ہمارا کالج اب صرف چھ مہینے یا سال تک رہے گا۔