خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 447

خطابات شوری جلد سوم حضور نے فرمایا : - ۴۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء یہ کمیٹی اس لئے قائم کی گئی ہے تاکہ بجٹ سے تعلق رکھنے والے تمام امور پر زیادہ سے زیادہ غور و خوض ہو سکے اور ہم کوئی ایسا قدم نہ اُٹھا ئیں جو بعد میں ہمارے لئے پریشانی کا موجب ہو۔اس کمیٹی کا ہر تیسرے مہینے مرکز میں اجلاس ہوا کرے گا اور اس کمیٹی کا یہ کام ہوگا کہ وہ ان تمام امور پر غور کرے جن کا ہمارے بجٹ پر اثر پڑتا ہے۔اسی طرح ایسی سکیمیں بھی تجویز کرے جن سے ہماری آمد میں اضافہ ہوسکتا ہے یہ کمیٹی بجٹ سے تعلق رکھنے والے تمام امور کے بارہ میں اپنی سفارشات صدر انجمن احمدیہ کے سامنے پیش کرے گی اور صدر انجمن احمدیہ کی سفارشات آخری منظوری کے لئے خلیفہ وقت کے سامنے پیش ہوا کریں گی۔اسی طرح یہ سٹینڈنگ کمیٹی ہر سال کے بجٹ کو پہلے تفصیلی طور پر دیکھ لیا کرے گی اور پھر مجلس شوری کے موقع پر سب کمیٹی بیت المال اُس پر غور کیا کرے گی علاوہ ازیں مختلف صیغہ جات کی طرف سے ایزاد کی بجٹ کے متعلق جو درخواستیں دورانِ سال میں آئیں وہ بھی اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوا کریں گی تاکہ ایزادئی بجٹ کی ذمہ داری بھی شوری کی سٹینڈنگ کمیٹی پر آجائے۔ناظر صاحب بیت المال اس کمیٹی کے صدر ہوں گے۔“ بجٹ آمد ۱۹۵۰ء۔۱۹۵۱ء اس کے بعد ناظر صاحب بیت المال نے بجٹ آمد پیش کیا حضور نے فرمایا : - جو دوست بجٹ آمد کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھوا دیں مگر یہ یاد رکھیں کہ اب جنرل ڈسکشن نہیں ہوگی اگر کسی آئٹم میں کسی دوست نے کوئی ترمیم پیش کرنی ہو 66 تو وہ کر سکتے ہیں مگر جو کچھ کہیں مختصر الفاظ میں کہیں کیونکہ وقت بہت کم رہ گیا ہے۔“ حضور کے اس ارشاد پر صرف ایک دوست مکرم ماسٹر محمد عبد اللہ صاحب نے اپنا نام لکھوایا۔ان کے اظہارِ خیال کے بعد حضور نے فرمایا: - میں نے تنبیہ کر دی تھی کہ یہ لمبی باتیں کرنے کا وقت نہیں مگر پھر بھی انہوں نے اپنی تقریر میں جنرل بحث کی ہے حالانکہ اس وقت وہ صرف اتنا کہہ سکتے تھے کہ اس بجٹ میں فلاں جگہ سے رقم نکال دی جائے یا فلاں جگہ اتنی رقم بڑھا دی جائے اور پھر وہ اپنی تائید میں