خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 425

خطابات شوری جلد سوم ۴۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء کہ غیر معمولی حالات میں یہ ضرورت پیش آگئی ہے۔بیرونی ممالک کے لئے کانسٹی ٹیوشن کی اشد ضرورت ابھی شیخ بشیر احمد صاحب نے ایک بات کی طرف توجہ دلائی ہے ہم نے ایک محکمہ قانون بنایا ہے جس کا ایک کام یہ بھی ہوگا کہ وہ بیرونی ممالک کی جماعتوں کے لئے کانسٹی ٹیوشن تیار کرے پندرہ سال سے میں اس کام کی طرف توجہ دلا رہا ہوں مگر صدرانجمن احمدیہ نے اب تک یہ کانسٹی ٹیوشن تیار نہیں کی۔حالانکہ بعض بیرونی ممالک میں ہماری جماعتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔اور اُن کے لئے تفصیلی نظام کی سختی سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ویسٹ افریقہ میں ہی ایک لاکھ کی جماعت ہے اور وہ اس طرح سے بڑھ رہی ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہم سے بھی بڑھ جائے گی وہاں ہیں پچپیس سکول ہیں ۳۵ ، ۴۰ مبلغ ہیں لیکن ابھی تک وہاں کی جماعت کی بھی کانسٹی ٹیوشن نہیں بنی اور یہ امر پندرہ سال سے زیر غور ہے۔اسی طرح امریکہ ہے جب بھی امریکہ میں جماعت نے ترقی کی وہ لوگ فوراً شور مچا دیں گے کہ ہمارا مرکز سے کیا تعلق ہے اور مرکز کا ہم سے کیا تعلق ہے، مبلغ کو کس حد تک ہمیں کنٹرول میں رکھنے کا حق حاصل ہے اور ہمیں مبلغ پر کیا کیا حقوق حاصل ہیں اسی طرح اور بہت سے سوالات پیش آجائیں گے اور یہ ایک ایسا ملک ہے کہ اگر وہاں دس پندرہ ہزار گھرانے بھی احمدی ہوگئے تو وہاں کی جماعت کا بجٹ ہم سے بڑھ جائے گا۔یہاں بجٹ آٹھ روپے فی کس ہے اور وہاں ایک سو روپیہ فی کس ہے اور ابھی غرباء کا طبقہ ہماری جماعت میں داخل ہے امراء آ گئے تو اُن کی ۳۶ گنا زیادہ آمدن ہوگی۔گویا ہمارے ۳۶ آدمیوں کے مقابلہ میں وہاں کے ایک احمدی کا چندہ ہو گا اُس وقت طبعی طور پر یہ سوال آجائے گا کہ اس روپیہ کو ہم اپنی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں یا آپ کی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں۔پس جب تک کوئی کانسٹی ٹیوشن نہیں بنے گی ہم اس بارہ میں اُن کو مطمئن نہیں کر سکتے۔اسی طرح انڈونیشیا ہے، مشرقی افریقہ ہے، شام ہے ان کے متعلق بھی سوال آجائے گا پس ضروری ہے کہ بیرونی ممالک کے متعلق جلد سے جلد کانسٹی ٹیوشن مرتب کیا جائے اور یہ کام اسی محکمہ قانون کا ہے۔اس محکمہ کا جو وکیل ہوگا اُس کے لئے لائبریری بھی چاہیے۔شیخ بشیر احمد صاحب نے