خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 424

خطابات شوری جلد سوم ۴۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء مکان تو آخر گرانے ہی پڑیں گے۔میں نے کہا ٹھیک ہے مکان ضرور گرانے پڑیں گے لیکن اتنی جلدی نہیں کہ ہمیں دوسرے مکانات بنانے کا موقع نہ مل سکے۔لیکن اگر کوئی ریلوے کا آفیسر آ جائے اور کہے یہ عمارتیں گرا دو تو ہمیں نئے مکانات بنانے تک خیموں یا جھونپڑوں میں رہنا پڑے گا۔یہ سب چیزیں بجٹ میں واضح کرنی چاہئیں تا جماعت کو اس کا احساس ہو۔کسی انسان کی قربانیوں کو بڑھانے کا یہ بھی ایک ذریعہ ہوتا ہے کہ اُسے بتایا جائے کہ ہمیں اتنی قربانی کی ضرورت ہے ہم نے فلاں فلاں نقصان اٹھائے ہیں جن کو ہم نے بہر حال پورا کرنا ہے۔شہد کی مکھی کا گھر ہمیشہ اُجڑ تا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ نیا گھر بنا لیتی ہے اور اس سے اکتاتی نہیں خدا تعالیٰ نے بھی اس کے لئے وحی کا لفظ استعمال کیا ہے جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تمہارا گھر بے شک اُجڑ تا رہتا ہے لیکن تم مورد وحی الہی اور جو کچھ کرتی ہو ہمارے منشاء کے ماتحت کرتی ہو انسان کا حوصلہ مکھی سے تو بہر حال بڑھ کر ہونا چاہیے پس یہ چیزیں چھپانی نہیں چاہئیں بلکہ ان کو ظاہر کرنا چاہیے تا کہ جماعت کو اپنے فرائض کا صحیح احساس ہو سکے۔پھر صدرانجمن احمدیہ کی اب تک یہ حالت ہے کہ اُدھر بجٹ پاس ہوا اور ادھر انہوں نے درخواست دے دی کہ حضور فلاں چیز رہ گئی تھی اُس کی منظوری عطا فر مائی جائے۔فلاں چیز رہ گئی تھی اُس کی منظوری عطا فرمائی جائے۔پھر وہ چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ اُن کی منظوری ئے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔مثلاً پاخانہ کی عمارت ہے اگر یہ نہ بنائی جائے تو کوئی ضروری نہیں لیکن جب عمارت بنا لی جائے تو اُس کے لئے کھڑیاں بنانی ضروری ہیں۔وہ کھڈیاں عمارت کے ساتھ نہیں بنائی جاتیں مگر بعد میں درخواست دے دی جاتی ہے کہ پاخانہ کے لئے کھڑیاں بنانا ہم بھول گئے تھے اس کے لئے اتنی رقم کی منظوری دی جائے اور مجبوراً منظوری دینی پڑتی ہے۔تعمیر کے محکمہ والوں کو کچھ اس قسم کا فن آ گیا ہے کہ وہ ضروری چیزیں چھوڑ جاتے ہیں میرے نزدیک کوئی ایسی تجویز ہونی چاہیے جس سے بجٹ مکمل بن سکے تا آئندہ کسی زیادتی کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔اور اگر کسی زیادتی کا سوال پیدا ہو تو یہ سمجھ لیا جائے