خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 426
خطابات شوری جلد سوم ۴۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء بتایا ہے کہ کمیٹی میں یہ سوال پیش ہوا تھا اور فیصلہ ہوا تھا کہ وکیل کے لئے ۳۰۰۰ روپے کی کتب چاہئیں لیکن بجٹ میں اس کا ذکر نہیں بعد میں درخواست آجائے گی کہ لائبریری کے لئے تین ہزار روپیہ کی ضرورت ہے اس کی منظوری دی جائے۔اسی طرح کالج کے پروفیسر ہیں گورنمنٹ نے قانون مقرر کر دیا ہے کہ پروفیسروں کا گریڈ ڈیڑھ سو کا ہے اب چونکہ گورنمنٹ نے فیصلہ کر دیا ہے اس لئے میں نے کہہ دیا تھا کہ کالج کے پروفیسروں کا گریڈ ڈیڑھ سو سے تین سو کر دیا جائے لیکن بجٹ میں صرف تین پروفیسروں کے نئے گریڈ کا ذکر ہے باقیوں کا نہیں۔اسی طرح مجلس مشاورت کے سامان کے لئے بجٹ میں کچھ نہ کچھ خرچ رکھنا چاہیے تھا اب دوست اس طرح بیٹھے ہوئے ہیں کہ آپس میں مشورہ کی کوئی صورت نہیں۔کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اشاعت کی اہمیت اسی طرح سب سے اہم ترین چیز ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہیں جن کو شائع کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جارہی۔ہماری لائبریری کی کتابیں قادیان میں ہی رہ گئی ہیں اور گورنمنٹ انہیں یہاں لانے کی اجازت نہیں دیتی۔میں نے غیر احمدیوں کے کئی خطوط پڑھے ہیں جن میں وہ لٹریچر کے لئے لکھتے ہیں لیکن جماعت انہیں مہیا نہیں کر سکتی۔وہ لکھتے ہیں عجیب بات ہے کہ آپ کے مبلغ امریکہ اور یورپ تو جارہے ہیں لیکن اپنے ملک کے لئے آپ کے پاس لٹریچر نہیں۔صدر انجمن احمدیہ کو چاہیے کہ وہ اس بارہ میں جلد عملی قدم اُٹھائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتب جو نایاب ہوتی جارہی ہیں شائع کرنے کی کوشش کرے۔اگر ہم ان کتابوں کے بغیر چند سال بھی گزار دیں گے تو آئندہ نسل یہ سمجھے گی کہ ان کے بغیر بھی گزارہ ہوسکتا ہے اور اُس کا یہ فیصلہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی روٹی کے بغیر جینے کا فیصلہ کر لے۔آمد بڑھانے کی ضرورت یہ سب چیزیں بجٹ تیار کرتے وقت نظر انداز کر دی گئی ہیں اور دوسری طرف یہ نظر آ رہا ہے کہ بجٹ اخراجات بجٹ آمد سے زیادہ ہیں۔اس پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ ہم اپنی آمد کو بڑھائیں اصل چیز