خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 423

خطابات شوری جلد سوم ۴۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء احمدی لڑکوں کی تصویریں ہیں۔اگر وہ قادیان میں ہوتے تو انہیں ایسا کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔یہ صرف ماحول سے کٹنے کی وجہ سے ہے۔غرض جب تک ہمارا کالج یہاں نہیں بن جاتا اور جب تک ہمارے طالب علم اور پروفیسر یہاں نہیں پہنچ جاتے اُن کی صحیح طور پر تربیت کرنا مشکل امر ہے۔اس طرح مدرسہ دینیات ہے وہ بھی مرکز سے باہر ہے اس کی نگرانی کی کوئی صورت نہیں اور وہ اس طرز پر جارہا ہے کہ اُس کے نتائج کو ہم اپنے نتائج نہیں سمجھ سکتے۔جس طرح جو چیز پہاڑ کے پیچھے ہے وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے اسی طرح ہمار ا سکول بھی ہماری پوری نگرانی میں نہیں۔پھر ہمارا یہاں کوئی پریس نہیں۔ریویو آف ریلیجنز کو پریس نہ ہونے کی وجہ سے ہم جاری نہیں کر سکتے۔پھر الفضل ہے وہ بھی لاہور میں ہے اُس کا حال یہ ہے کہ من چه سرایم و طنبوره من چه سراید وہ اور آواز نکالتے ہیں اور ہم اور آواز نکالتے ہیں جب تک یہ سب ادارے مرکز میں جمع نہ ہو جائیں اُن کی نگرانی مشکل ہے بے شک اُن کی بعض شاخیں مرکز سے باہر بھی ہوں گی مگر پوری نگرانی اُسی وقت ہوسکتی ہے جب اُن کے اصل مرکز میں ہوں۔یہ سب چیزیں ہمارا بجٹ ہی سامنے لا سکتا ہے لیکن اُس میں ان باتوں کو نہیں دکھایا جاتا۔اسی طرح مثلاً تعمیر ہے بجٹ میں صرف تعمیر کا لفظ لکھ کر اُس کے آگے رقم لکھ دی گئی ہے حالانکہ صرف تعمیر کے لفظ سے لوگوں کے جذبات نہیں اُبھرتے اور طوعی کاموں میں جذبات کو اُبھارنے کی ضرورت ہوتی ہے۔شاہ جہان نے جو تاج محل کی عمارت بنوائی تھی وہ بھی تو تعمیر ہی تھی لیکن اور کوئی شخص ویسی عمارت بنانا چاہے تو نہیں بنا سکتا۔اس لئے تعمیر کے چاہیے۔اگر تفصیل لکھ دی جاتی تو لوگ سمجھتے کہ یہ چیزیں تو ضرور بنانی ساتھ تفصیل چاہیں۔ہم یہاں بیٹھے تھے کہ ریلوے والے بھی یہیں آگئے۔میں نے انہیں کہا کہ اسٹیشن ابھی نہ بنائیں کیونکہ ہم سب اسٹیشن کی زمین میں ہیں۔انہوں نے بات نہ سمجھی اور کہا یہ۔