خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 417

خطابات شوری جلد سوم ۴۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء سکتے تھے ، انہوں نے کہا جاؤ اور اپنے گھر سے جا کر پانی پیو، وہ گھر گیا اور بیوی سے کہنے لگا کہ پیاس سے میرا برا حال ہے جلدی کرو اور پانی لاؤ۔وہ اُٹھی اور گلاس تلاش کرنے لگی مگر وہاں گلاس کہاں تھا وہ تو اُس کے ماں باپ لے آئے تھے۔اس نے خاوند سے کہا کہ گلاس تو ملتا نہیں آپ کہیں تو میں اپنے گلاس میں پانی لے آؤں ؟ اُس نے کہا نہیں میں تمہارے گلاس میں پانی پینے کے لئے تیار نہیں۔غرض وہ پیاس کی شدت سے تڑپتا چلا گیا اور اُس کی کیفیت خراب سے خراب تر ہونے لگی ، جب وہ موت کے بالکل قریب پہنچ گیا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا، نیک بخت ! اپنے منہ میں پانی بھر کے میرے منہ میں آکر گلی کر دے چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا، اپنے منہ میں پانی ڈالا اور پھر اُس کے منہ میں آکر گلی کر دی۔اُس کے ماں باپ بھی چُھپ کر یہ نظارہ دیکھ رہے تھے ، جب اُنہوں نے اپنے بیٹے کا یہ نمونہ دیکھا تو وہ خوشی سے دوڑتے ہوئے آئے اور اپنے لڑکے کو دُعائیں دیتے ہوئے کہنے لگے ،شکر۔ہمارے بیٹے کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوا۔وہ چمارن سے شادی کر چکا تھا ، اُس سے محبت اور پیار کرتا تھا مگر اُس کے برتن میں پانی پینے کے لئے تیار نہیں تھا۔اسی قسم کی بات اُس کے خاوند نے کی کہنے لگا احمدی لڑکیاں بڑی کٹر ہوتی ہیں، میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ میرے ساتھ نماز پڑھ تو وہ نماز پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔یہ بھی ویسی ہی بات ہے شادی ہو چکی ہے، بچے جن رہی ہے مگر نماز یں الگ الگ پڑھی جاتی ہیں تا کہ ایمان میں کوئی نقص ہے واقع نہ ہو۔دوستوں کا فرض ہے کہ وہ مرکز کو یہ صورت جو قلوب کی نظر آتی ہے اس کی اصلاح اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک جماعت ہمیشہ صحیح حالات سے باخبر رکھیں میں یہ احساس پیدا نہ ہو کہ جب بھی کسی مقام پر کوئی ایسا واقعہ ہو افراد جماعت کا فرض ہے کہ وہ فوراً مرکز کو صحیح حالات سے باخبر کریں تا کہ مناسب کارروائی کے بعد ان واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔اب عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی امیر آدمی غیر احمدی کو لڑکی دے دیتا ہے تو مرکز میں اُس کی رپورٹ نہیں کی جاتی لیکن اگر غریب سے کوئی ایسا فعل سرزد ہوتا ہے تو اُس کی فورا رپورٹ کر دی جاتی ہے میرے نزدیک ایسے معاملات کے اصل ذمہ دار