خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 418
خطابات شوری جلد سوم ۴۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء مقامی اُمراء اور پریذیڈنٹ ہوتے ہیں۔کیونکہ وہی ایسے واقعات کو چھپاتے ہیں اور وہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ جانے دو جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا اب کسی کی رپورٹ کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ پس سب کمیٹی نے جو بورڈ تجویز کیا ہے اُس سے کچھ نہیں بن سکتا۔اصل چیز جو اس خرابی کی جڑ ہے وہ یہ ہے کہ افراد جماعت کے اندر یہ روح نہیں ہوتی کہ وہ مضبوطی کے ساتھ احمدیت کی تعلیم پر قائم رہیں اُن کا ایک پیر ادھر ہوتا ہے اور دوسرا پیر اُدھر ہوتا ہے ، ایک طرف وہ احمدی کہلاتے ہیں اور دوسری طرف اُن میں احمدیوں والی جرات نہیں ہوتی ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کی آنکھوں کے سامنے احمدیت کی ہتک ہوتی ہے اور وہ خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ہمارا ایک اچھا بھلا مبلغ ہے اُس نے تھوڑے ہی دن ہوئے میرے کان کھالئے ہر دوسرے دن اُس کی طرف سے تار آجا تا کہ فلاں شخص جسے احمدی ہوئے صرف پندرہ دن ہوئے ہیں اُسے فلاں لڑکی سے شادی کرنے کی اجازت دی جائے اور اجازت بھی بذریعہ تار بھجوائی جائے۔میں نے اُسے جواب بھجوایا کہ نیک بخت ! یہ تو گلا گھونٹ کر اجازت لینے والی بات ہے، اگر تو نے نجاست ہی کھانی ہے تو کھا لے مجھ سے اس بارہ میں اجازت لینے کے کیا معنی ہیں۔بعد میں ہم نے اجازت بھی دے دی کیونکہ بات یہ نکلی کہ اُس عورت کو بھی احمدی ہوئے صرف پندرہ دن ہی ہوئے تھے ، ہم نے سمجھا کہ شائد یہ دونوں شادی کے لئے ہی احمدی ہوئے ہوں اس لئے چلو ان کو اجازت دے دو۔بہر حال یہ حالات ہیں جن میں سے اس وقت جماعت گزر رہی ہے ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک پہلے قانون میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔جو قانون اس وقت جاری ہے وہی درست ہے کیونکہ بہت سی احمدی لڑکیاں رشتے نہ ملنے کی وجہ سے بیٹھی ہیں اُن کا خیال رکھنا ضروری ہے لیکن ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ آئندہ جب کسی مقام سے یہ رپورٹ ملے کہ کسی شخص نے غیر احمدی کو اپنی لڑکی دے دی ہے یا بغیر مرکز کی منظوری کے غیر احمدی لڑکی سے شادی کر لی ہے تو وہاں صرف اُس شخص کے خلاف کا رروائی نہ کی جائے جس نے ایسی حرکت کی ہو بلکہ امیر یا پریذیڈنٹ کو بھی اس کا ذمہ دار سمجھا جائے اور اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے بلکہ میرے نزدیک اصل کارروائی امیروں یا پریذیڈنٹوں کے متعلق ہی ہونی چاہیے کیونکہ وہی ہیں جو اس قسم کی