خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 386
خطابات شوری جلد سو ۳۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اتنی تو قربانی پائی جانی چاہئے جتنی یورپین قوموں میں پائی جاتی ہے۔یورپ میں آبادی کا سوا چھ فی صدی حصہ جنگی کاموں میں حصہ لیا کرتا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر یورپ کے لوگوں جتنا ایمان بھی تم میں پایا جائے تو دس لاکھ ہونے کی صورت میں ساٹھ ہزار اور پانچ لاکھ ہونے کی صورت میں تمیں ہزار تم میں فوجی ہونا چاہئے۔اگر اُس شیر گدوانے والے کی طرح جس نے شیر کا ایک ایک عضو گودنے پر یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ اس کے بغیر بھی شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ تم بھی یہ کہہ دو کہ ہماری ساری جماعت تو ہندوستان سے باہر ہے اور یہاں صرف دو لاکھ جماعت قرار دو، تب بھی ساڑھے بارہ ہزار فوجی تم میں ہونا چاہئے مگر یورپ میں سوا چھ فیصدی لوگ جو فوج میں لئے جاتے ہیں وہ اس لئے نہیں لئے جاتے کہ باقی لوگ جان قربان کرنے سے دریغ کرتے ہیں بلکہ سوا چھ فی صدی وہ اس لئے لیتے ہیں کہ اُن کے میڈیکل ٹیسٹ بہت سخت ہوتے ہیں ورنہ جان پیش کرنے سے وہ پیچھے نہیں ہٹتے۔اب ہمارے ملک کے حالات نہایت ہی نازک مرحلہ پر پہنچ چکے ہیں۔حکومت ان باتوں کو چھپاتی ہے اور اُس کی مصلحت اسی میں ہے کہ وہ ان باتوں کو چھپائے ، ورنہ دوسری قوم شور مچا دے کہ مسلمانوں کو لڑائی کے لئے برانگیختہ کیا جاتا ہے لیکن حالات کی نزاکت سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔( اب چونکہ دونوں ملکوں میں خوشگوار حالات پیدا ہو گئے ہیں۔میں بعض تفصیلات کو حذف کرتا ہوں ) قادیان میں رہتے ہوئے ہمارے لئے ایک مشکل تھی ورنہ اُن دِنوں میں بھی ہم یہی پسند کرتے کہ دشمن سے لڑ کر مر جائیں۔اور وہ مشکل یہ تھی کہ ہمیں حکومت سے لڑنا پڑتا تھا اور حکومت سے لڑنا ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ قادیان سے ہمارا پیچھے ہٹنا حرام اور قطعی حرام ہوتا۔اگر حکومت سے مقابلہ نہ ہوتا مگر چونکہ وہاں ہماری جنگ لوگوں سے نہیں ہوتی تھی بلکہ حکومت کے نمائندوں سے ہوتی تھی اور یہ چیز شرعاً ہمارے لئے جائز نہیں تھی ، اس لئے ہم نے مقابلہ نہ کیا، ورنہ اگر یہ صورت نہ ہوتی تو ہر شخص جو قادیان سے بھاگ کر آتا خواہ میں ہوتا یا کوئی اور ہوتا بھگوڑا اور باغی ہوتا مگر چونکہ خدا کا حکم تھا کہ حکومت سے نہیں لڑنا اس لئے ہم پیچھے ہٹ گئے۔جیسے مکہ میں رہتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے دشمن سے جنگ کرنا جائز نہیں تھا مگر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے