خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 385
خطابات شوری جلد سوم ۳۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء بہر حال میں نے یہ دیکھا ہے کہ کچھ مدت تک جوش دکھا کر جماعت نے اب خاموشی اختیار کر لی ہے اور وہ فوجی ٹریننگ کے لئے اپنے نوجوان پیش نہیں کر رہی۔میں نے بارہا کہا ہے کہ بغیر خون کی ندی میں سے گزرنے کے تم کامیاب نہیں ہو سکتے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کوئی قوم خون کی ندی میں سے آپ ہی آپ گزرنے لگ گئی ہو اور اُسے فوجی مشق کی ضرورت پیش نہ آئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ان مشقوں کو اتنا اہم سمجھتے تھے کہ آپ مسجد میں بھی فنونِ جنگ کے کرتب دیکھتے تھے اور اپنی موجودگی میں صحابہ کا تیراندازی میں مقابلہ کرواتے تھے ، انہیں نیزہ بازی سکھاتے تھے ، انہیں شمشیر زنی کی مشق کراتے تھے ، اُن میں گھوڑ دوڑ کی مہارت پیدا کرتے تھے اور اس طرح اپنی جماعت کو ہر وقت آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رکھتے تھے مگر ہماری جماعت میں اس قسم کی بے رغبتی پیدا ہو گئی ہے کہ اس چھوٹے سے کام میں بھی اُس قربانی کا نمونہ نہیں دکھا رہی جو دوسری جماعتیں پیش کر رہی ہیں۔ہماری جماعت کے بعض دوست اپنی تعداد کو بہت بڑھا کر بیان کرنے کے عادی ہیں۔میں تو ایسے لوگوں کی ہمیشہ تردید کیا کرتا ہوں۔مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ آپ کی جماعت کتنی ہے؟ تو میں کہا کرتا ہوں کہ ساری دُنیا کے احمدی ملا کر شاید ہماری تعداد چار پانچ لاکھ ہوگی۔اس پر عموماً مجھے کہا جاتا ہے کہ فلاں احمدی تو کہتا ہے کہ ہندوستان میں دس لاکھ احمدی ہیں۔میں کہتا ہوں اُس کا علم مجھ سے زیادہ ہو گا میرا اندازہ تو اتنا نہیں۔غرض جب تعداد کے بیان کرنے کا وقت آتا ہے تو تم مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہماری تعداد دس لاکھ ہے یا پندرہ لاکھ ہے مگر جب قربانی کا وقت آتا ہے تو تم کبھی غور نہیں کرتے کہ تم کیا کر رہے ہو اور صحابہ کیا کیا کرتے تھے۔صحابہ کے وقت سولہ فی صدی آبادی جنگ میں شامل ہوا کرتی تھی۔اگر دس لاکھ احمدی ہوں تو ہم میں سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار آدمی فوجی ہونا چاہئے۔اگر ۵ لاکھ احمدی ہوں تو ہم میں اسی ہزار فوجی ہونا چاہئے۔اگر کہو کہ ہم میں صحابہ جتنی ہمت نہیں اور تم صحابہ سے آدھی بھی قربانی کرو تو دس لاکھ ہونے کی صورت میں تم میں اسی ہزار فوجی ہونا چاہئے اور پانچ لاکھ ہونے کی صورت میں تم میں چالیس ہزار فوجی ہونا چاہئے۔اگر کہو کہ ہمارا تو بہت ہی گھٹیا ایمان ہے تو کم از کم تم میں