خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 387

خطابات شوری جلد سوم ۳۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء تو لڑائی آپ کے لئے جائز ہو گئی۔غرض اب حالات بالکل مختلف ہیں۔اب اگر پاکستان سے کسی ملک کی لڑائی ہوگئی تو حکومت کے ساتھ ہو کر ہمیں لڑنا پڑے گا اور حکومت کی تائید میں ہمیں جنگ کرنی پڑے گی اس لئے اب پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔بہترین طریق یہی تھا کہ محاذ کشمیر پر تین تین ماہ کے لئے ہماری جماعت کے نوجوان جاتے اور فوجی ٹریننگ حاصل کر کے آ جاتے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک چھوٹی سی تعداد بھی ہم پوری نہیں کر سکے۔جو لوگ فوجی خدمت دے رہے ہیں اُن میں سے سوا سو کے قریب تو ایسے ہیں جن کو ہم کچھ گزارہ دیتے ہیں لیکن بہت کم۔در حقیقت یہ لوگ بڑے نیک ہیں جو بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں ، بڑے اخلاص کے ساتھ کام کرنے والے ہیں اور سالہا سال سے اس فرض کو ادا کر رہے ہیں اور پھر اپنے عہدوں کے لحاظ سے بعض پانچواں ، بعض چھٹا اور بعض ساتواں حصہ گزارہ لے رہے ہیں۔میں نے خود گورنمنٹ کی ایک رپورٹ دیکھی ہے جس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ احمدی لوگ جو یہاں کام کر رہے ہیں وہ صرف نام کا گزارہ لے رہے ہیں۔اسی طرح مثلاً سپاہی ہیں اُن میں سے بعض کو بیس ہیں روپے مل رہے ہیں ، آفیسر جو کمانڈ کرتا ہے، اُسے سو روپے ملتے ہیں حالانکہ اگر وہ فوج میں ہوتا تو اُسے ہزار روپیہ ملتا۔غرض انتہائی قربانی کے ساتھ یہ لوگ کام کر رہے ہیں اور پھر فوجی ٹریننگ میں بھی یہ لوگ کسی سے پیچھے نہیں۔چنانچہ فوجی افسروں کی رپورٹ ہے کہ ان لوگوں کو عام سپاہیوں سے کسی طرح کم قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے لئے فخر کا بھی موجب ہیں مگر ہمارے لئے شرمندگی اور ذلت کا بھی موجب ہیں۔میں بتا چکا ہوں کہ پانچ سو آدمی ہر وقت کام پر رہنے چاہئیں۔ان میں سے ایک سو ہیں تو وہ نکل گیا جو معمولی گزارہ لے کر کام کر رہا ہے۔باقی چارسو کے قریب آدمی رہ گئے لیکن اس وقت یہ حالت ہے کہ برابر آٹھ نو مہینوں سے ایک سو میں مخلصوں کو نکال کر جو جماعت کی طرف سے والنٹیرز جاتے ہیں اُن کی نفری ایک سو پچاس تک رہ گئی ہے اور ایک سو پچاس میں سے بھی اکثر وہ ہیں جن کو جبراً فوجی قانون کے ماتحت ہم نے روکا ہوا ہے، ورنہ وہ اپنا وقت پورا کر چکے ہیں۔اگر ان کو بھی واپس کر دیا جاتا تو صرف ساٹھ ستر والنٹیر زرہ جاتے۔جس جماعت کے اقل ترین والنٹیر زدولاکھ تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے ساڑھے بارہ ہزار