خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 377

خطابات شوری جلد سوم ۳۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ( منعقده ۷ تا ۹ / اپریل ۱۹۵۰ء) پہلا دن جماعت احمدیہ کی اکتیسویں مجلس مشاورت مؤرخہ ۷ تا ۹۔اپریل ۱۹۵۰ء کو ربوہ میں دعا منعقد ہوئی۔قرآن کریم کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا : - ”اب میں اس اجلاس کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کروں گا کہ وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ عظیم الشان کام جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے اُس کے بجالانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری کمزوریوں اور غلطیوں کو معاف فرمائے اور وہ تمام فتن جو ہمارے راستے میں پیدا کئے جا رہے ہیں یا آئندہ پیدا ہو سکتے ہیں اُن کو دور فرمائے اور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم اس کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوں اور اُس کی ناراضگیوں سے بچنے والے ہوں اور اُس کی مہربانیوں اور عنایت کے مستحق ہوں۔اس کی ناراضگی اور خفگی کے مورد نہ ہوں اور وہ ہماری کمزریوں کو اپنی طاقت سے دور فرمائے اور ہماری جہالتوں کا اپنے علم سے ازالہ فرمائے اور ہماری کوتاہ اندیشیوں کی اپنے علم اور اپنے فضل سے اصلاح فرمائے اور اُن کی بجائے ہمیں اُن راستوں کی ہدایت فرمائے جن رستوں پر چل کر ہم اسلام اور احمدیت کی صحیح خدمت کر سکیں اور ہم وہ نہ ہوں جو اس دُنیا میں آتے ہیں تو اس طرح مر جاتے ہیں کہ نہ اُن کے آنے سے اس دُنیا میں کوئی تغیر پیدا ہوتا ہے اور نہ اُن کے مرنے سے کوئی تغیر پیدا ہوتا ہے بلکہ ہم وہ ہوں کہ ہماری اس دُنیا میں آمد اس دُنیا کی اصلاح اور فائدہ کے لئے عظیم الشان تغیر پیدا کرنے کا موجب ہو اور ہمارا