خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 378
خطابات شوری جلد سوم ۳۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اس دُنیا سے جانا بھی دُنیا کے لئے ایک قیامت کا موجب ہو۔ساتھ ہی ہمیں اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دُعا کرتے رہنا چاہئے کہ وہ ایسی نئی پود پیدا کرتا رہے جو اس بوجھ کو اُٹھاتی چلی جائے جو ہم پر ڈالا گیا ہے۔وہ ہم سے کم خدمت کرنے والی، ہم سے کم قربانی کرنے والی، ہم سے کم خدا تعالیٰ سے محبت کرنے والی اور ہم سے کم دین کے لئے اپنے اوقات صرف کرنے والی نہ ہو بلکہ اُس کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کی زیادہ سے زیادہ وارث ہو۔پھر ہمارا فرض ہے کہ ہم اس موقع پر بھی یہ دُعا کریں کہ وہ ہمارے فیصلوں کے بہترین نتائج پیدا کرے اور ہمیں ان فیصلوں کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم کو اُن لوگوں میں شامل نہ فرمائے جن کے متعلق وہ کہتا ہے کہ وہ کہتے ہیں مگر کرتے نہیں بلکہ ہم جو کچھ کہیں اُس کے مطابق کریں بلکہ اس سے زیادہ کر کے دکھائیں تا کہ ہمارے اندر کسی قسم کے نفاق کا شائبہ نہ ہو۔دُنیا کی نگاہوں میں بھی ، اپنی نگاہوں میں 66 بھی اور خدا تعالیٰ کی نگاہوں میں بھی۔“ تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ کے بعد جن حالات میں سے میں گزرا ہوں اور میری صحت جیسی تھی اُس کے لحاظ سے یہ مشکل نظر آتا تھا کہ شوریٰ کے موقع پر میں حصہ لے سکوں گا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دے دی اور میں شوریٰ میں شریک ہو گیا۔اب بھی میرا گلا زخمی ہے اور آواز پھٹی ہوئی ہے لیکن بہر حال اب آواز اونچی نکلنے لگ گئی ہے۔شروع میں تو متواتر کئی دن ایسے گزرے ہیں کہ میرے حلق میں سے آواز بالکل ہی نہیں نکل سکتی تھی اور اگر بہت زور دے کر تھوڑا سا بھی بولتا تو شدید ضعف ہو جاتا ، پسینے آنے لگتے اور بخار ہو جاتا۔اُس وقت کے حالات کے ماتحت تو میں سمجھتا تھا کہ شاید میری آواز ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ہے لیکن آہستہ آہستہ پھر آواز نکلنی شروع ہوئی اور اب بھی گو میں اونچی آواز سے بول سکتا ہوں لیکن آواز پھٹی ہوئی نکلتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ میری طبیعت کب تک ٹھیک ہو گی۔لاہور میں بعض ڈاکٹروں سے مشورہ لیا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ بچپن اور جوانی میں بھی اگر یہ مرض ہو تو لمبا عرصہ لیتی ہے اور جب انسان اُدھیڑ عمر سے نکل جائے تو پھر تو یہ بہت زیادہ لمبا عرصہ لیتی ہے اور اس کے جلدی اچھے ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔بہر حال یہ