خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 371

خطابات شوری جلد سوم دو مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء چونکہ اس وقت کسی اور دوست نے نام نہیں لکھوایا اس لئے جو دوست اظہارِ خیالات ہے۔کر چکے ہیں میں انہی کی پیش کردہ باتوں کے متعلق بعض امور بیان کرنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک گرانٹ کے ساتھ یہ شرط رکھ دینی چاہئے کہ یہ چندہ کی آمد بڑھانے پر خرچ کی جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم اپنے پاس سے تو کچھ نہیں دیں گے وہ آمد پیدا کریں گے تو ہم گرانٹ دیں گے اور زائد بات یہ ہوگی کہ نادہندگان سے چندہ وصول کرنے کی ایک صورت بھی نکل آئے گی اگلے سال ہم یہ شرط لگا دیں گے کہ گرانٹ اس شرط پر دی جاتی ہے کہ اس سال چندہ اتنا بڑھایا جائے۔رامہ صاحب نے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ نادہندگان سے باز پرس کی جائے یہ بات نہایت اہم ہے اس میں ایک حد تک نظارت بیت المال کی بھی غلطی چندہ حفاظت مرکز اب بھی نصف کے قریب ایسا ہے جو وصول نہیں ہوا۔میں نے جب نظارت بیت المال سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے ابھی تک چارٹ بنائے ہی نہیں۔اور حالت یہ تھی کہ بعض جماعتوں نے تو اخلاص کی وجہ سے اپنے حصہ کا استی یا نوے فیصدی ادا کر دیا تھا اور بعض جماعتوں کی طرف سے ابھی دس فیصدی چندہ بھی وصول نہیں ہوا تھا۔اگر چارٹ بنائے ہوئے ہوتے تو نادہندگان کو توجہ دلائی جاتی کہ وہ جلد از جلد چندہ ادا کریں۔تا اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔اب یہ ہو رہا ہے کہ جب نادہندگان کو ادائیگی کی طرف توجہ دلائی جانی مقصود ہوتی ہے تو سب وعدہ کنندگان کو چٹھی لکھ دی جاتی ہے یہ چٹھی ان لوگوں کو بھی چلی جاتی ہے جنہوں نے اپنے وعدے وقت پر پورے کر دیئے ہوتے ہیں۔اب پیشتر اس کے کہ میں اختر صاحب کی تجویز کو پیش کروں میں ایک ضروری بات کہنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک ناظروں کو سال میں چھ سات دفعہ باہر لیکچروں کے لئے بھیجنا چاہئے کیونکہ یہ اپنے مافی الضمیر کو ادا نہیں کر سکتے ایک دوست نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ سیکرٹری مال کو اجازت ہونی چاہئے کہ وہ ایسے شخص کو جس کی کوئی رقم خزانے میں بطور امانت ہو اُس کے مطالبہ پر چندہ میں سے رقم دے دے اور پھر خزانہ اُس کو ایڈجسٹ Adjust کرلے۔میرے نزدیک یہ بالکل غلط تجویز ہے اور دنیا کا کوئی بنک ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا قطع نظر اس کے کہ اس میں بددیانتی کا احتمال ہے۔بعض اوقات